القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 324

۳۲۴ أَرَى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقِّرُ میں ہر ایک محجوب کو دیکھتا ہوں جو اپنی دُنیا کیلئے رو رہا ہے۔ پس کون ہے جو اس دین کیلئے روتا ہے جس کی تحقیر کی جاتی ہے۔ وَلِلدِّينِ أَطْلَالُ أَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَ دَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کیلئے شکستہ ریختہ نشان باقی ہیں جن کو میں حسرت کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ اور اُس کے محلوں کو یاد کر کے میرے آنسو جاری ہیں۔ تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ مُّجِيحَةٍ وَارْحَى سَدِيلَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَدَّرُ گمراہیاں ایک آندھی کی طرح ظاہر ہو گئیں ایسی آندھی جو درختوں کو جڑ سے اکھاڑتی ہے۔ اور ایک تاریک رات نے گمراہی کے پردے نیچے چھوڑ دیئے۔ تَهُبُّ رِيَاحٌ عَاصِفَاتٌ كَأَنَّهَا سِبَاعٌ بِأَرْضِ الْهِنْدِ تَعْوِى وَتَزْعَرُ سخت آندھیاں چل رہی ہیں گویا کہ وہ درندے ہیں ۔ ملک ہند میں ۔ جو بھیڑیئے اور شیر کی آواز نکال رہے ہیں۔ أَرَى الْفَاسِقِينَ الْمُفْسِدِينَ وَزُمْرَهُمْ وَقَلَّ صَلَاحُ النَّاسِ وَالْغَيُّ يَكْفُرُ میں فاسقوں اور مفسدوں کی جماعتوں کی جماعتیں دیکھ رہا ہوں۔ اور نیکی کم ہوگئی اور گمراہی بڑھ گئی ۔ أَرى عَيْنَ دِينِ اللَّهِ مِنْهُمْ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِينُ وَ الْآرَامُ تَمْشِي وَتَعْبُرُ میں دین الہی کے چشمہ کو دیکھتا ہوں کہ مکہ رہو گیا۔ اور اس میں وحشی چار پائے چل رہے اور عبور کر رہے ہیں۔ أَرَى الدِّينَ كَالْمَرْضَى عَلَى الْأَرْضِ رَاغِمًا وَكُلُّ جَهُولٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَرُ میں دین کو دیکھتا ہوں کہ بیمار کی طرح زمین پر پڑا ہوا ہے۔ اور ہر ایک جاہل اپنی ہو ا و ہوس کے جوش میں ناز کے ساتھ چل رہا ہے۔ وَمَا هَمُّهُمْ إِلَّا لِحَظِّ نُفُوسِهِمْ وَمَا جُهْدُهُمْ إِلَّا لِحَ يُوَفَّرُ اور ان کی ہمتیں اس سے زیادہ نہیں کہ وہ نفسانی حفوظ کے طالب ہیں۔ اور ان کی کوششیں اس سے بڑھ کر نہیں کہ وہ حظ نفسانی کثرت سے چاہتے ہیں۔ نَسُوا نَهْجَ دِينِ اللَّهِ خُبُنًا وَّ غَفْلَةً وَقَدْ سَرَّهُمُ سُكُرٌ وَ فِسْقٌ وَ مَيْسِرُ انہوں نے دین کی راہ کو خبث اور غفلت کی وجہ سے بھلا دیا۔ اور ان کو مستی اور بدکاری اور قمار بازی پسند آ گئی۔ أَرَى فِسْقَهُمْ قَدْ صَارَ مِثْلَ طَبِيعَةٍ وَمَا إِنْ أَرَى عَنْهُمْ شَقَاهُمْ يُقَشَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ان کا فسق طبیعت میں داخل ہو گیا اور میرے نزدیک اب بظاہر غیر ممکن ہے کہ ان کی شقاوت ان سے الگ کر دی جائے۔ یک