القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 322

۳۲۲ وَكُنْتُ أَرَى الَّا سُلَامَ مِثْلَ حَدِيقَةٍ مُبَعَدَةٍ مِّنْ عَيْنِ مَاءٍ يُنَفِّرُ اور میں اسلام کو اس باغ کی طرح دیکھتا تھا۔ جو اس چشمہ سے دور ہو جوتر و تازہ کرتا ہے۔ فَمَا زِلْتُ اسْقِيْهَا وَ اسْقِي بِلَادَهَا مِنَ الْمُزْنِ حَتَّى عَادَ حِبْرٌ مُّدَعْثَرُ پس میں اس باغ کو پانی دیتارہا اور اسکی زمینوں کو آسمانی بارش کا پانی دیا یہاں تک کہ اسکی خوبصورتی ویران شده عود کر آئی۔ وَجَاشَتُ إِلَى النَّفْسُ مِنْ فِتْنَةِ الْعِدَا فَأَنْزَلَ رَبِّي حَرُبَةً لَّا تُكَسَّرُ اور میرا دل دشمنوں کے فتنہ سے نکلنے لگا۔ پس نازل کیا میرے رب نے ایک حربہ جو توڑا نہیں جائیگا۔ فَأَصْبَحْتُ اَسْتَقْرِى الرِّجَالَ رِجَالَهُمْ لِأُفْحِـمَ قَوْمًا جَابِرِينَ وَ انْذِرُ پس میں نے صبح کی اور اُن لوگوں کی تلاش میں لگ گیا۔ تا میں ظالموں پر اتمام حجت کروں ۔ وَقَدْ كَانَ بَابُ اللَّهُ مَرْكَزَ حَرْبِهِمْ كَلَامٌ مُّضِلَّ لَا حُسَامٌ مُشَهَّرُ اور ان کا طرز جنگ صرف زبانی خصومت تھی یعنی محض گمراہ کر نیوالی باتوں کو پیش کرتے اور مذہب کیلئے تلوار کی لڑائی تھی۔ فَوَافَيْتُ مَجْمَعَ لُدِّهِم وَقَتَلْتُهُمْ بِضَرْبٍ وَلَمْ أَكْسَلُ وَلَمْ أَتَحَسَّرُ پس میں لڑنے والوں کے مجمع میں آیا اور ایک ہی ضرب سے انہیں قتل کر دیا اور نہ میں سست ہوا اور نہ ماندہ ہوا۔ وَإِنِّي أَنَا الْمَوْعُودُ وَالْقَائِمُ الَّذِي بِهِ تُمْلَأَنَّ الْأَرْضُ عَدْلًا وَ تُشْمِرُ اور میں مسیح موعود اور وہ امام قائم ہوں جو زمین کو عدل سے بھرے گا اور ویران جنگلوں کو پھل دار کریگا۔ بِنَفْسِي تَجَلَّتْ طَلْعَةُ اللهِ لِلْوَرى فَيَا طَالِبِي رُشُدٍ عَلَى بَابِيَ احْضُرُوا میرے ساتھ صورت خدا کی خلقت پر ظاہر ہوگی ۔ پس اے ہدایت کے طالبو! میرے دروازے پر حاضر ہو جاؤ۔ خُذُوا حَضَّكُمْ مِّنِّي فَإِنِّي اِمَامُكُمْ أُذَكِّرُكُمْ أَيَّامَكُمْ وَأُبَشِّرُ اپنا حصہ مجھے سے لے لو کہ میں تمہارا امام ہوں ۔ تمہیں تمہارے دن یاد دلاتا ہوں اور بشارت دیتا ہوں ۔ وَقَدْ جِئْتُكُمْ يَا قَوْمِ عِنْدَ ضَرُورَةٍ فَهَلْ مِنْ رَشِيدٍ عَاقِل يَتَدَبَّرُ اور اے میری قوم! میں ضرورت کے وقت تمہارے پاس آیا ہوں۔ پس کیا کوئی تم میں رشید اور عقلمند ہے جو اس بات کو سوچے۔