القصائد الاحمدیہ — Page 292
۲۹۲ تَهُبُّ رِيَاحٌ عَاصِفَاتٌ كَأَنَّهَا سِبَاعٌ بِأَرْضِ الْهِنْدِ تَعْوِي وَ تَزْءَ رُ تند ہوائیں اس طرح چل رہی ہیں گویا کہ وہ ہند کی سرزمین میں درندے ہیں جو شیخ اور دھاڑ رہے ہیں۔ أَرَى الْفَاسِقِينَ الْمُفْسِدِينَ وَ زُمَرَهُمْ وَقَلَّ صَلَاحُ النَّاسِ وَالْغَيُّ يَكْفُرُ میں بدکار مفسدوں اور ان کے گروہوں کو ہی دیکھ رہا ہوں اور لوگوں کی نیکی کم ہو گئی اور گمراہی بڑھ گئی ہے۔ ارَى عَيْنَ دِينِ اللَّهِ مِنْهُمْ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِينُ وَالْأَرَامُ تَمْشِي وَ تَعْبُرُ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ کے دین کا چشمہ ان کی وجہ سے مکدر رہو گیا ہے اور اس میں نیل گائے اور ہرن چل رہے ہیں اور اسے عبور کر رہے ہیں (یعنی اس کا کوئی وارث نہیں رہا) أَرَى الدِّينَ كَالْمَرْضَى عَلَى الْأَرْضِ رَاغِمًا وَكُلُّ جَهُولٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَرُ میں دین کو مریضوں کی طرح زمین پر خاک آلود پاتا ہوں اور ہر ایک جاہل ہوائے نفس میں مٹک مٹک کر چل رہا ہے۔ وَمَا هَمُّهُمُ إِلا لِحَظِّ نُفُوسِهِمْ وَمَاجُهُدُهُمْ إِلا لِعَيْشِ يُوَفِّرُ اور ان کا تمام فکر ان کے حظ نفس کے لئے ہی ہے اور ان کی ساری کوشش صرف ایسی عیش کے لئے ہی ہے جسے بڑھایا جائے۔ نَسُوا نَهْجَ دِينِ اللَّهِ خُبْشًا وَ غَفْلَةً وَقَدْ سَرَّهُمْ بَغَى وَفِسْقٌ وَ مَيْسِرُ وہ خباثت اور غفلت سے اللہ کے دین کی راہ کو بھول گئے ہیں اور انہیں سرکشی، بدکاری اور قمار بازی پسند آ گئی ہے۔ فَلَمَّا طَغَى الْفِسْقُ الْمُبِيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوْ كَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبِّرُ جب تباہ کن بدی کے سیلاب میں طغیانی آگئی تو میں نے آرزو کی کہ مہلک و با آ جائے۔ فَإِنَّ هَلَاكَ النَّاسِ عِنْدَ أُولِي النُّهَى أَحَبُّ وَأَوْلَى مِنْ ضَلَالٍ يُدَمِّرُ کیونکہ عقلمندوں کے نزدیک لوگوں کا ہلاک ہو جانا اس گمراہی سے جو تباہ کر دیتی ہے زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے۔ صَبَرْنَا عَلَى ظُلْمِ الْخَلَائِقِ كُلِّهِمْ وَلَكِنْ عَلَى سَيْلِ الشَّقَا لَا نَصْبِرُ ہم نے تمام لوگوں کے ظلم پر صبر کیا ہے لیکن ہم بدبختی کے سیلاب پر صبر نہیں کر سکتے ۔ وَقَدْ ذَابَ قَلْبِي مِنْ مَّصَائِبِ دِينِنَا وَأَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ وَابْصِرُ اور اپنے دین کے مصائب سے میرا دل پگھل گیا ہے اور میں وہ کچھ جانتا اور دیکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔