القصائد الاحمدیہ — Page 291
۲۹۱ لد ٧ الْقَصِيدَةُ لِكُلِّ قَرِيحَةٍ سَعِيدَةٍ ہر سعید فطرت کے لئے ایک قصیدہ ارى سَيْلَ افَاتٍ قَضَاهَا الْمُقَدِّرُ وَفِي الْخَلْقِ سَيِّئَاتُ تُذَاعُ وَ تُنشَرُ میں ان آفات کے سیلاب کو دیکھ رہا ہوں جن کو تقدیر جاری کرنے والے خدا نے مقدر کیا ہے اور مخلوق میں ایسی برائیاں ( موجود ) ہیں جو پھیلائی اور نشر کی جارہی ہیں۔ وَفِي كُلِّ طَرْفِ نَارُ شَرِّ تَأَجَّجَتْ وَفِي كُلِّ قَلْبِ قَدْ تَرَائُ التَّحَجُّرُ اور ہر طرف آتش فساد و شر بھڑک اُٹھی ہے اور ہر ایک دل میں قساوت ظاہر ہوگئی ہے۔ وَقَدْ زُلْزِلَتْ مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ دَوْحَةٌ تُظِلُّ بِظِلٍّ ذِي شِفَاءٍ وَتُشْمِرُ اور اس ہوا سے وہ درخت ہل گیا ہے جو شفا اور سایہ دینے والا اور ثمر دار تھا۔ ارى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ہر غافل اپنی دنیا کے لئے رورہا ہے۔ پس کون ہے جو دین کے لئے روئے جس کی تحقیر کی جارہی ہے۔ وَلِلدِّينِ أَطْلَالُ أَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے کھنڈرات ہو چکے ہیں جنہیں میں غم زدہ کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے آنسو اس کے محلات کی یاد میں بہہ رہے ہیں۔ تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ مُّجِيحَةٍ وَارْحَى سَدِيلَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَـدِّرُ بیخ کنی کرنے والی ہوا کی طرح گمراہیاں ظاہر ہو گئی ہیں اور اندھیری رات نے ضلالت کا پردہ لڑکا دیا ہے۔ ارى ظُلُمَاتٍ لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُنُوسَ الْمَوْتِ أَوْ كُنْتُ انْصَرُ میں تاریکیاں دیکھتا ہوں ۔ کاش میں ان سے پہلے ہی مر جاتا اور موت کے پیالے چکھ لیتا یا پھر میں نصرت دیا جاتا۔