القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 293

۲۹۳ وَبَشِّى وَحُزْنِي قَدْ تَجَاوَزَ حَدَّهُ وَلَوْلَا مِنَ الرَّحْمَنِ فَضْلٌ أَتَبَّرُ اور میر اغم واندوہ اپنی حد سے بڑھ گیا ہے اور اگر خدائے رحمان کا فضل نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔ وَعِنْدِي دُمُوعٌ قَدْ طَلَعْنَ الْمَاقِيَا وَعِنْدِي صُرَاخٌ لا يَرَاهُ الْمُكَفِّرُ اور میرے آنسو گوشہ ہائے چشم سے باہر نکل آئے ہیں اور میں ایسی چیخ و پکار کرتا ہوں جسے مکفر نہیں دیکھتا۔ وَلِى دَعَوَاتٌ يَصْعَدَنَّ إِلَى السَّمَاءِ وَلِيُّ كَلِمَاتٌ فِي الصَّلَايَةِ تَقْعَرُ اور میری دعائیں ایسی ہیں جو آسمان پر جاتی ہیں اور میرے کلمات پتھر میں اثر کرتے ہیں۔ وَأُعْطِيتُ تَأْثِيرًا مِّنَ اللهِ خَالِقِي فَيَأْوِى إِلَى قَوْلِى جَنَانٌ مُطَهَّرُ اور مجھے اپنے خالق خدا کی طرف سے تاثیر بخشی گئی ہے۔ پس پاک دل میرے قول کی طرف پناہ لیتا ہے۔ وَإِنَّ جَنَانِي جَاذِبٌ بِصَفَائِهِ وَإِنَّ بَيَانِي فِي الصُّخُورِ يُؤَثّر اور بے شک میرا دل اپنے صاف ہونے کی وجہ سے جاذب ہے اور بلا شبہ میرا بیان چٹانوں میں بھی اثر کرتا ہے۔ حَفَرْتُ جِبَالَ النَّفْسِ مِنْ قُوَّةِ الْعُلى فَصَارَ فُؤَادِى مِثْلَ نَهْرٍ يُفَجَّرُ میں نے خدا دا د طاقت سے نفس کے پہاڑوں کو کھودا ہے پس میرا دل نہر کی طرح ہو گیا ہے جو جاری کی جاتی ہے۔ وَأُعْطِيتُ رُعْبًا عِندَ صَمْتِي مِنَ السَّمَا وَقَوْلِى سِنَانٌ أَوْ حُسَامٌ مُّشَهَّرُ اور اپنی خاموشی کے وقت مجھے آسمان سے رعب عطا کیا گیا ہے اور میرا قول نیزہ یا شمشیر برہنہ ہے۔ فَهَذَا هُوَ الْأَمْرُ الَّذِي سَرَّ مَالِكِي وَاَرْسَلَنِي صِدْقًا وَ حَقًّا فَانْذِرُ پس یہ وہ امر ہے جس نے میرے مالک کو خوش کیا اور اس نے مجھے حق و صداقت دے کر بھیجا تا کہ میں انذار کروں ۔ إِذَا كَذَّبَتْنِي زُمَرُ اَعْدَاءِ مِلَّتِي فَقُلْتُ اخْسَأُوُا إِنَّ الْخَفَايَا سَتَظْهَرُ جب میرے دین کے دشمنوں کے گروہوں نے میری تکذیب کی تو میں نے کہہ دیا ” دور ہو جاؤ ۔ پوشیدہ باتیں عنقریب ظاہر ہو جائیں گی۔ فَرِيقٌ مِّنَ الْأَحْرَارِ لَا يُنْكِرُونَنِي وَحِزْبٌ مِّنَ الْأَشْرَارِ ذَوُا وَانْكَرُوا شریفوں کا گروہ میرا انکار نہیں کرتا اور اشرار کے گروہ نے مجھے ایذا دی ہے اور میرا انکار کیا ہے۔