القصائد الاحمدیہ — Page 269
۲۶۹ فَأَقْسَمْتُ جَهْدًا بِالَّذِي هُوَ رَبُّنَا سَأَصْلِى قُلُوبَ الْمُفْسِدِينَ وَاحْرِقِ پس میں نے خدا تعالیٰ کی قسم کھائی ہے کہ عنقریب میں مفسدوں کے دل جلاؤں گا۔ اكُفُّ لِسَانِي كُلَّ كَفَّ فَإِنْ تَرُمُ بِخُبُثِ فَإِنِّي دَامِعٌ هَامَةَ الشَّقِى میں جہاں تک ممکن ہے زبان کو بند رکھتا ہوں پس اگر تو خبث کا ارادہ کرے تو میں شقی کا سر توڑنے والا ہوں ۔ وَاشْرَاكَ مَاقُلْنَا وَقَدْ فَهُتَ بِالْهِجَا بِكَلِم أَسَالَتْنِي إِلَيْكَ فَأَغْلَقِ اور میری بات تجھے غصہ میں لائی اور تو پہلے بدگوئی کر چکا ایسے کلموں کیساتھ جنہوں نے مجھے غصہ دلایا پس میں غصہ کرتا ہوں۔ وَلَا خَيْرَ فِي رِفْقٍ إِذَا لَمْ تَكُنْ بِهِ مَوَاضِعُ رِفْقٍ تَطْلُبُ الرِّفْقَ كَالْحَقِّ اور اس نرمی میں بہتری نہیں جو نرمی کے محل پر نہ ہوا ایسا محل جو نرمی کو چاہتا ہے اور حق کی طرح اسکو مانگتا ہے۔ وَلَوْ قَبْلَ سَبِّ الْمُكْفِرِينَ سَبَبْتُهُمْ لَكُنتُ ظَلُومًا مُسْرِفًا غَيْرَ مُتَّقِى اور اگر کا فرٹھہر انیوالوں کے گالی دینے سے پہلے میں گالی دیتا تو میں ظالم اور حد سے گذرنے والا اور نا پر ہیز گار ہوتا۔ وَلَكِنْ هَجَوْا قَبْلِي فَأَوْجَبَ لِي الْهِجَا هِجَاهُمْ فَمَا عُدْوَانُ عَبْدٍ مُّسَبِّقِ مگر انہوں نے مجھ سے پہلے ہجو کی پس انکی ہجو نے مجھے ہجو پر برانگیختہ کیا پس اور اس شخص پر کیا الزام جس پر سبقت کی گئی۔ وَقَدْ كَفَّرُونِ وَفَسَّقُوْنِ وَإِنَّهُمْ كَذِتُبِ سَطَوْا أَوْ مِثْلَ سَيْفٍ مُّشَقِّقِ انہوں نے مجھے کا فر ٹھہرایا اور فاسق ٹھہرایا اور انہوں نے بھیڑیے کی طرح حملہ کیا یا پھاڑنے والی تلوار کی طرح ۔ وَمَا كَانَ قَصْدِى أَنْ أُكَلَّمَ مِثْلَهُمْ وَلَكِنَّهُمْ قَدْ كَلَّفُونِي فَاقْلَقِ اور میری نیت نہ تھی کہ ان کی طرح گفتگو کروں مگر مجھے انہوں نے تکلیف دی پس میں بے آرام کیا گیا۔ لَهُمْ صَوْلُ كَلْبِ وَالتَّحَوِّى كَحَيَّةٍ وَعَادَاتُ سِرْحَإِن وَقَلْبٌ كَخِرُنَقِ انکا کتے کیطرح حملہ ہے اور سانپ کیطرح پیچ و تاب ہے اور بھیڑیئے کی طرح عادتیں ہیں اور خرگوش کا دل ہے۔ وَأَرْسَلَنِي رَبِّي لِكَفْاً سُيُولِهِمْ وَغَيْضِ مِيَاهِ قَدْ عَلَتْ مِنْ تَدَفُّقِ اور میرے خدا نے مجھے بھیجا ہے تا میں اسلام کی طرف انکے سیلاب کو ہٹا دوں اور تا میں ان پانیوں کو خشک کروں جو گرتے گرتے زیادہ ہو گئے ہیں۔