القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 270

٢٧٠ وَإِنِّي مِنَ الْمَوْلَى وَعُلِّمْتُ سُبُلَهُ وَأُعْطِيتُ حِكْمًا مِنْ خَبِيرٍ مُوَفِّقِ اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور حکیم توفیق دہندہ سے۔ دہندہ سے مجھے حکمتیں عطا ہوئی ہیں۔ فَنَجَّيْتُ مِنْ بِدَعِ الزَّمَانِ وَفِتَنِهِ أَنَاسًا أَطَاعُونِي وَزَادُوا تَعَلُّقِى پس میں نے زمانہ کی بدعتوں اور فتنوں سے ان لوگوں کو نجات دی ہے جنہوں نے میری اطاعت کی اور میرا تعلق زیادہ کیا۔ ا لَمْ تَرَ كَيْفَ يَشُقُّ فُلْكِى حُبَابَهَا وَتَجْرِي عَلَى رَاسِ الْعِدَا كَالمُصَفَّقِ کیا تو دیکھتا نہیں کہ میری کشتی فتنہ کے بھاری پانی کو کیونکر پھاڑ رہی ہے اور دشمنوں کے سروں پر ایسی چلتی ہے کہ ایک حال سے دوسرے حال تک پہنچاتی ہے۔ وَأُعْطِيتُ مِنْ عِلْمِ الهُدى وَتَافَقَتْ بِنَا شَمْسُ جَلُوَتِهِ فَصِرْتُ كَمَشْرِقِ اور میں علم ہدایت دیا گیا اور اس کے جلوہ کا آفتاب مجھے پہنچا اور میری افق میں سے نکلا پس میں مشرق کی طرح ہو گیا۔ عش وَلِي أَيَةٌ كُبرى فَمَنْ غَضَّ بَصَرَهُ عِنَادًا فَمَنْ يُعْطِيهِ عَيْنَ التَّاتَّقِ اور میرے لئے نشان عظیم ہے پس جو شخص عناد سے اپنی آنکھ بند کرے اسکو محاسن پر غور کرنے کی کون آ نکھ بخشے ۔ اَلَمْ تَرَ فِتَنَ الدَّهْرِ كَيْفَ تَكَنَّفَتْ وَهَبَّتْ رِيَاحٌ لَا كَهَيْجَانِ سَوْهَقِ کیا تو دیکھتا نہیں کہ زمانہ کے فتنے کیسے محیط ہو گئے اور ایسی ہوائیں چلیں جو تیز ہوا کا گردباد کیا ہوتا ہے۔ فَجِئْتُ مِنَ الرَّبِّ الَّذِي يَرْحَمُ الْوَرَى وَيُرْسِلُ غَيْمًا عِنْدَ قَحْطٍ مُعَزَقِ پس میں اس رب کی طرف سے آیا جو خلقت پر رحم کرتا ہے اور بادل کو تنگ کر نیوالے قحط کے وقت بھیجتا ہے۔ أَنَا الضَّيْغَمُ الْبَطْلُ الَّذِي تَعْرِفُونَهُ ثِمَالُ الصَّدُوقِ مُبِيدُ أَهْلِ التَّخَلُّقِ میں وہ شیر بہادر ہوں جس کو تم پہچانتے ہو پناہ راستباز کی اور دروغ گو کو ہلاک کرنے والا ۔ عَلَى مَوْطِنٍ يَخْشَى الْكَذُوبُ هَلَاكَهُ نَقُوْمُ بِصَمْصَامٍ حَدِيدٍ وَاذْلَقِ اس میدان میں جو جھوٹا اپنی موت سے ڈرتا ہے ۔ ہم تیز تلوار کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ فَمَنْ جَاءَ نَا فِي مَوْطِنِ الْحَرْبِ وَالْوَغَى يُدَاسُ وَيُسْحَقُ كَالدَّوَاءِ الْمُدَقَّقِ پس جو شخص لڑائی کے میدان میں ہمارے پاس آیا پس وہ پیا جائے گا جیسا کہ دوا پیسی جاتی ہے۔