القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 268

۲۶۸ تَقَدَّمْتَ عَبْدَ الحَقِّ فِي السَّبِّ وَالْهِجَا فَاقْرِيكَ مَا أَهْدَيْتَ لِي كَالْمُشَوِّقِ اے عبدالحق تو نے گالیوں میں پیش قدمی کی پس میں تیری ویسی ہی دعوت کروں گا جیسا کہ تو نے اپنی آرزو سے تحفہ دیا۔ وَسَمَّيْتَنِي كَلْبًا وَقَدْ فُهْتَ شَاتِمًا وَجَاوَزْتَ حَدَّ الْأَمْرِ يَا أَيُّهَا الشَّقِى اور میرا نام تو نے کتا رکھا اور گالیوں سے تو نے منہ کھولا اور اسے شقی! تو حد سے زیادہ گزر گیا۔ وَمَا الْكَلْبُ إِلا صُورَةٌ اَنْتَ رُوحُهَا فَمِثْلُكَ يَنْبَحُ كَالْكِلَابِ وَيَزْعَقِ اور کتا ایک صورت ہے اور تو اسکی روح ہے پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے۔ رَمَيْتُكَ إِذْ عَرَّضْتَ نَفْسَكَ رَمْيَةً وَمَنْ اَكْثَرَ التَّفْسِيقَ يَوْمًا يُفَسَّقِ میں نے تجھے اس وقت گالی دی جبکہ تو نے اپنے نفس کو گالی کا نشانہ بنادیا اور جو بد کار کہنے میں حد سے زیادہ گذر جائے آخر وہ بدکار ٹھہرایا جاتا ہے۔ فَاسْقِيكَ مِمَّا قُلْتَ كَأْسًا رَوِيَّةً وَذَلِكَ دَيْنٌ لَازِمٌ كَيْفَ يُمُحَقِ میں تیرے ہی قول سے تجھے لبالب پیالے پلاؤں گا اور یہ لازم الادا قرض ہے پس اس سے کم نہیں کیا جائیگا۔ فَذُقَ أَيُّهَا الْغَالِي طَعَامَ التَّبَادُلِ صَفِيفٌ شَوَاءٌ بِالْجَبِيزِ الْمُرَقَّقِ پس اے غلو کرنے والے! بھاجی کا کھانا کھا بھنا ہوا گوشت ہے چپاتی کے ساتھ۔ لَطَمُنَاكَ تَنْبِيهَا فَالْغَيْتَ لَطْمَنَا فَلَيْتَ لَنَا النَّعْلَيْنِ مِنْ جِلْدِ عَوْهَقِ ہم نے تنبیہ کیلئے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا پس کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا۔ وَتَسْمَعُ مِنِّى كُلَّ سَبِّ تُرِيدُهُ وَإِنْ تَرْفَقَنُ فِي الْقَوْلِ وَالصَّوْلِ اَرْفَقِ اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے۔ أَطَلْتَ لِسَانَكَ كَالْبَغَايَا وَقَاحَةً ظَلَمُتَكَ جَهْلًا يَا أَخَا الْغُولِ فَاتَّقِ تو نے بدکار عورتوں کی طرح اپنی زبان دراز کی اور اے دیو! تو نے اپنے پر ظلم کیا۔ وَأَعْلَمُ أَنَّ جُمُوعَكُمْ اَيُّهَا الْغَوِى عَلَى حِرَاصٌ لَوْ تُسِرُّونَ مَوْبَقِى اور اے گمراہ میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے گروہ میرے قتل کیلئے سخت حریص ہیں اگر میرے قتل کا موقع پاؤ۔