القصائد الاحمدیہ — Page 267
۲۶۷ وَتَبقَى رِجَالُ اللَّهِ عِنْدَ نَهَابِرٍ عَلَى النَّارِ تَفْنَى الْكَاذِبُونَ كَرِيبَقِ اور خدا کے مرد مصیبتوں کے وقت باقی رہتے ہیں اور جھوٹے آگ پر پارہ کی طرح فنا ہو جاتے ہیں۔ إِذَا مَا بَدَتْ نَارٌ مِنَ اللَّهِ فِتْنَةً فَكُلُّ كَذُوبٍ لَا مَحَالَةَ يُحْرَقِ جس وقت خدا کی آگ آشکارا ہوتی ہے پس ہر ایک جھوٹا جلایا جاتا ہے۔ وَمَنْ يُحْرِقُ الصِّدِّيقَ حِبَّ مُهَيْمِنٍ فَطُوبَى لِمَنْ يُصْلَى بِنَارِ التَّوَمُّقِ اور صدیق کو جو خدا کا دوست ہے کوئی جلا نہیں سکتا پس مبارک وہ جو دوستی کی آگ سے جلتا ہے۔ وَمَنْ كَذَّبَ الصِّدِّيقَ خُبْشًا وَ فِرْيَةً فَيَسْفِيهِ اِعْصَارٌ وَيُخْزِى وَيَسْفَقِ جو شخص خباثت اور جھوٹ کی راہ سے صدیق کی توہین کرے پس گرد باد کی ہوا اسے اڑا لے جاتی اور اسے رسوا کرتی ہے اور اسکے منہ پر طمانچہ مارتی ہے وَمَهُمَا يَكُنْ حَقٌّ مِّنَ اللَّهِ وَاضِحٌ وَإِنْ رَدَّهَا زُمْرٌ مِّنَ النَّاسِ يَبْرُقِ اور جس جگہ حق واضح ہوا گر چہ لوگ اس کو رد کریں تب بھی وہ چمک اٹھتا ہے۔ وَمَنْ كَانَ مُفْتَرِيًا يُضَاعُ بِسُرْعَةٍ وَيَهْلِكُ كَذَّابٌ بِسَمِّ التَّخَلُّقِ اور مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور کا ذب جھوٹ کے زہر سے مر جاتا ہے۔ تَرى قَوْلَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَالِيًا كَنَبْتٍ خَبِيثِ الرِّيحِ مُرِّ سَنَعْبَقِ تو اس کی بات کو ہر ایک نیکی سے خالی پائے گا جیسا کہ ایک پلید بوٹی بد بو والی کڑوی جس کا نام سنعبق ہے۔ فَيُقْطَعُ نَبْتٌ لَا مُرِيحٌ وُجُودُهُ وَكُلُّ نَخِيلٍ لَا مَحَالَةَ يَسْمَقِ پس ایسی بوٹی کاٹ دی جاتی ہے جس کا وجود کچھ فائدہ نہیں دیتا اور ہر ایک کھجور کا درخت ضرور اپنی لمبائی تک پہنچ جاتا ہے۔ وَإِنِّي مِنَ الْمَوْلَى عُذَيْقٌ مُرَجَّبٌ فَيُعْرَقُ قَاطِعُ شَجْرَتِي كُلَّ مَعْرَقِ اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ کھجور ہوں جو بار کثرت میوہ کے اسکے نیچے ستون دیا گیا پیس جوشخص میرے درخت کو قطع کرنا چاہے اسکے بدن سے گوشت علیحدہ کیا جائیگا۔ حَسِبْتُمْ قِتَالَ الصَّادِقِينِ كَهَيِّنٍ وَإِنَّ سِهَامَ الصَّادِقِينَ سَيَخْزِقِ تم نے صادقوں کی لڑائی کو آسان سمجھ لیا ہے اور صادقوں کے تیر آخر نشانہ پر لگا کرتے ہیں۔