القصائد الاحمدیہ — Page 266
۲۶۶ فَصَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ فِي جَمْعِ الْعِدًا وَقَدْ كَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَتَخَلَّقُ پس دشمنوں کے مجمع میں اسلام پر حملہ کیا اور وہ خوب جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بولتا تھا۔ وَحَمِدَ كُبَرَاءَ الْهُنُودِ وَدِيْنَهُمْ وَ دَاهَنَ مِنْ وَجْهِ النِّفَاقِ كَمُنْفِقٍ اور ہندوؤں کے بزرگوں اور انکے دین کی تعریف کی اور محتاجوں کی طرح نفاق سے مداہنہ کیا۔ أَرَادَ لِيُخْزِيَ دِينَنَا مِنْ عَدَاوَتِي فَأَخْزَاهُ رَبِّ قَادِرٌ حَافِظُ الْحَقِّ اسنے ارادہ کیا کہ میری عداوت سے دین کو رسوا کرے سو خدائے قادر حق کے محافظ نے اسکو ہی رسوا کر دیا۔ فَلَمَّا رَأَوُا سِيَرَ الْغُرَابِ بِنُطْقِهِ فَقَالُوا لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ تَنْعَقِ پس جب لوگوں نے کوے کی سیرت اسکے نطق میں دیکھی تو انہوں نے کہا تجھ پر واویلا ! تو تو کاں کال کر رہا ہے۔ وَقَالُوا لَهُ يَا شَيْخُ ! وَقْتُكَ قَدْ مَضَى فَاحْسِنُ إِلَيْنَا بِالسُّكُوتِ وَأَطْرِقِ اور لوگوں نے کہا کہ اے شیخ! تیرا وقت گزر گیا پس اپنی خاموشی سے ہم پر احسان کر ۔ وَلَمَّا أَصَرَّ عَلَى الْقِيَامِ وَمَا نَأَى فَقِيلَ عَلَى عَقِبَيْكَ إِنَّكَ تَدْمُقِ پس جب اپنے قیام پر اصرار کیا اور دور نہ ہواپس کہا گیا کہ پیچھے ہٹ جا تو بے اجازت کھڑا ہوتا ہے۔ فَمَا طَاوَعَ الْأَحْرَارَ حُمُقًا وَمَا انْتَهَى فَقَالُوا إِذًا صَهُ ! صَهُ ! وَلَا تَكُ مُقْلِقِ پس حماقت کی وجہ سے اُس نے اچھوں کی بات کو نہ مانا اور باز نہ آیا پس لوگوں نے کہا کہ چپ رہ چپ رہ! اور بے آرام نہ کر۔ فَلَمَّا أَبي فَنَفَاهُ صَدْرُ الْمُنْتَدَى بِزَجُرٍ يَلِيقُ بِذِي مَكَائِدَ أَفْسَقِ پس جبکہ سرکشی کی تو میر مجلس نے اسکونکال دیا اور اسے جھڑ کی کے ساتھ نکالا جو فاسقوں کا علاج ہے۔ اهَانَ الْمُهَيْمِنُ مَنْ أَرَادَ اِهَانَتِي فَرَمِّقُ وَمِيْضَ الْحَقِّ إِنْ كُنتَ تَرْمُقِ خدا نے اس شخص کو ذلیل کیا جو میری ذلت چاہتا تھا پس حق کی چمک کو دیکھ اگر دیکھ سکتا ہے۔ يَدُ اللَّهِ تَحْمِي نَفْسَ مَنْ هُوَ صَادِقٌ وَ إِنَّ الْمُزَوِّرَ يَضْمَحِلُّ وَيَزْهَقِ خدا کا ہاتھ صادق کی حمایت کرتا ہے اور جھوٹا مضمحل ہو جاتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے۔