القصائد الاحمدیہ — Page 160
١٦٠ الد الْقَصِيدَةُ بُشْرَى لَكُمْ يَا مَعْشَرَ الْإِخْوَانِ طُوبَى لَكُمْ يَا مَجْمَعَ الْخُلَّانِ تمہیں اے جماعت برادران ! بشارت ہو تمہیں اے جماعت دوستان ! مبارک ہو۔ ظَهَرَتْ بُرُوقُ عِنَايَةِ الْحَنَّانِ وَبَدَا الصِّرَاطُ لِمَنْ لَهُ الْعَيْنَانِ خدا تعالیٰ کی عنایت کی چمک ظاہر ہوگئی اور جو شخص دو آنکھیں رکھتا ہے اس کے لئے راہ کھل گیا۔ النَّيّرَانِ بِهَذِهِ الْبُلْدَانِ خُسِفَا بِإِذْنِ اللَّهِ فِي رَمَضَانِ سورج اور چاند کو ان ملکوں میں باذن الله رمضان میں گرہن لگ گیا۔ وَبِشَارَةٌ مِنْ سَيِّدٍ خَيْرِ الْوَرَى ظَهَرَتْ مُطَهَّرَةً مِّنَ الْأَدْرَانِ اور ایک بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسے پاک طور پر ظاہر ہو گئی کہ کوئی میل اس کے ساتھ نہیں۔ وَلَهَا كَصَاعِقَةِ السَّمَاءِ مَهَابَةٌ وَتَشَدُّرٌ كَتَشَدُّرِ الْفُرْسَانِ اور ان میں صاعقہ کی طرح ایک ہیبت ہے اور سواروں کی طرح ایک رعب ناک گردن کشی ہے۔ الْيَوْمَ يَوْمٌ فِيهِ حَصْحَصَ صِدْقُنَا قَدْ مَاتَ كُلُّ مُكَذِّبٍ فَتَانِ آج وہ دن ہے جس میں ہمارا صدق ظاہر ہو گیا اور ہر یک مکذب فتنہ انگیز مر گیا۔