القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 161

١٦١ الْيَوْمَ يَبْكِي كُلُّ اَهْلِ بَصِيرَةٍ مُتَذَكِّرًا لِمَرَاحِمِ الرَّحْمَانِ آج ہر یک اہل بصیرت رورہا ہے اور رونے کا سبب خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو یاد کرنا ہے۔ وَمُصَدِّقًا أَنْوَارَ نَبَأَ نَبِيِّنَا وَمُعَظَّمًا لِمَوَاهِبِ الْمَنَّـانِ اور دوسرے یہ سبب کہ رونے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کو تصدیق کرتے ہیں۔ اور بخشائش محسن حقیقی کی عظمت کا تصور کر رہے ہیں۔ الْيَوْمَ كُلُّ مُبَايِعٍ ذِي فَطْنَةٍ اِزْدَادَ إِيْمَانًا عَلَى إِيْمَانِ آج ہر یک دانا بیعت کرنے والا اپنے ایمان میں ایسا زیادہ ہو گیا کہ گویا نیا ایمان پایا۔ الْيَوْمَ مَنْ عَادَى رَأَى خُسْرَانَهُ وَالْتَاحَ مَقْعَدُهُ مِنَ النِّيرَانِ آج ہر یک دشمن نے اپنا نقصان دیکھ لیا اور اس کا آگ میں ٹھکانا ہونا ظاہر ہو گیا۔ الْيَوْمَ كُلُّ مُوَافِقٍ ذِي قُرْبَةٍ قَدْ شَدَّ رَبِّطَ جَنَانِهِ بِجَنَانِي آج ہر یک موافق ذی قربت نے اپنے دل کا ربط میرے دل سے زیادہ کر لیا۔ ظَهَرَتْ كَمِثْلِ الشَّمْسِ حُجَّةُ صِدْقِنَا أَوْ كَالْخُيُولِ الصَّافِنَاتِ بِشَأْنِ آفتاب کی طرح ہمارے صدق کی حجت ظاہر ہوگی یا اپنی شان میں ان گھوڑوں کی طرح جب قدم کے مقابل پر ان کا قدم پڑتا ہے۔ مَاتَ الْعِدَا بَتَفَكُن وَتَنَدُّمِ وَالْحَقُّ بَانَ كَصَارِمِ عُرْيَانِ دشمن شرمندگی اور ندامت سے مر گئے اور حق ایسا کھل گیا جیسا کہ تنگی تلوار ۔ اللهُ أَكْبَرُ كَيْفَ أَبدى أيَةً كَشَفَ الْغِطَاءَ بِإِنَارَةِ الْبُرْهَانِ کیا ہی بزرگ خدا ہے کیونکر اس نے نشان کو ظاہر کیا برہان کو روشن کر کے پردہ کو کھول دیا۔ هَلْ كَانَ هَذَا فِعْلَ رَبِّ قَادِرٍ أَمْ هَلْ تَرَاهُ مَكَائِدَ الْإِنْسَانِ کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے یا تو اس کو انسان کا فریب سمجھتا ہے؟ هذَا نُجُومٌ اَوْ مِنَ الْجَفْرِ الَّذِي فَكَرْتَ فِيهِ كَمُفْتَرٍ فَتَانِ کیا یہ نجوم ہے یا وہ جفر ہے جس میں تو نے مفتریوں فتنہ انگیزوں کی طرح فکر سے کام لیا ہے۔