القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 150

۱۵۰ وَوَاللَّهِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمٌ مُّبَارَكٌ يُذَكِّرُنَا أَيَّامَ نَصْرِ الْمُهَيْمِنِ اور بخدا یہ دن مبارک دن ہے۔ جو ہمیں خدا تعالیٰ کی مدد کا زمانہ یاد دلاتا ہے۔ وَهَذَا عَطَاءٌ مِّنْ قَدِيرٍ مُكَوِّنٍ وَفَضْلٌ مِّنَ اللَّهِ النَّصِيرِ الْمُهَوِّنِ اور یہ اس قادر کی عطا ہے جو نیست سے ہست کرنے والا ہے۔ اور یہ اس اللہ کا فضل ہے جو مد گار اور مشکلات کو آسان کرنے والا ہے۔ فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّى تَأْثَرًا إِذَا مَا رَأَيْتُ حَنَانَ رَبِّ مُّحْسِنِ سومتا ثر ہونے کی وجہ سے میرے آنسو جاری ہو گئے ۔ جبکہ میں نے خدائے محسن کی یہ بخشایش دیکھی ۔ قَدِ انْكَسَفَتْ شَمْسُ الضُّحَى لِصِيَاءِ نَا لِيَظْهَرَ ضَوْءُ ذُكَائِنَا عِنْدَ مُمْعِنِ سورج ہماری روشنی کے لئے کسوف پذیر ہوا۔ تا کہ ہمارے آفتاب کی روشنی ان لوگوں پر ظاہر ہو۔ تَرى أَنْوَارَ الدِّينِ فِي ظُلُمَاتِهَا وَلمَّاتِهَا كَأَنَّهَا أَرْضُ مَخْزَنِ تو اس کی تاریکی میں دین کے نوردیکھتا ہے۔ اور ایسا ہی اس کے اس حادثہ میں جو اس پر پڑرہا اوروہ ایسا ویرانہ سا ہو گیا ہے جیسا کہ وہ ویرانہ زمین ہوتی ہے جسکے نیچے خزانہ ہو۔ وَلَيْسَ كُسُوفًا مَاتَرى مِثْلَ عَنْدَمٍ بَلِ احْمَرَّ وَجُهُ الشَّمْسِ غَضُبًا عَلَى الدَّنِي اور یہ کسوف نہیں جو دم الاخوین کی طرح تجھے نظر آتا ہے۔ بلکہ ایک کمینہ پر غصہ کرنے کی وجہ سے سورج کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وَحُمْرَتُهَا غَيْظُ تَرَى فِي خَدِّهَا عَلَى جَهَلَاتِ الْقَوْمِ فَانْظُرُ وَامْعِنِ اور اس کی سرخی ایک غصہ ہے جو اس کے رخساروں میں نمودار ہے۔ اور یہ غصہ قوم کی بیہودگیوں پر ہے پس دیکھ اور غور سے دیکھ۔ ظَلَامٌ مُّنِيرٌ يَمْلَأُ الْعَيْنَ قُرَّةَ وَيَسْقِي عِطَاشَ الْحَقِّ كَأْسَ التَّيَقُنِ ایک روشن کرنے والا اندھیرا ہے جو آنکھ کو ٹھنڈک کے ساتھ پُر کر دیتا ہے۔ اور حق کے طالبوں کو یقین کے پیالے پلاتا ہے۔ وَلَوْ قَبْلَ رُؤْيَتِهِ أَنَابَ مُخَالِفِى لَهُدِي إِلَى الْأَسْرَارِ قَبْلَ التَّفَكُنِ اور اگر اس سے پہلے میرا مخالف حق کی طرف رجوع کرتا۔ تو شرمندہ ہونے سے پہلے حقانی بھیدوں کو پالیتا۔ وَلَكِنَّهُ عَادَى وَقَفَّلَ قَلْبَهُ فَقُلْنَا اهْلِكَنُ فِي جَهْلِكَ الْمُتَمَكِّنِ مگر اس نے حق سے مخالفت کی اور اپنے دل کو مقفل کر دیا۔ سو ہم نے کہا کہ اپنے مستحکم جہل میں مرجا۔