القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 130

۱۳۰ يَا غُولَ بَادِيَةِ الضَّلَالَةِ وَالْهَوَى تَهْذِى هَوًا مِنْ غَيْرِ عَيْنِ تَبَصُّرِ اے گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان! تو محض ہوا پرستی سے بکواس کر رہا ہے اور معرفت کی آنکھ تجھ کو حاصل نہیں۔ قَطَّعْتَ قَلْبَ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعِهِمْ كَمْ صَارِمٍ لَّكَ يَا عَبِيطُ وَ خَنْجَرِ تو نے تمام مسلمانوں کا دل ٹکڑ ے ٹکڑے کر دیا اے درونگو جنگجو ! ہمیں یہ تو بتلا کہ تیرے پاس کتنی تلواریں اور خنجر ہیں؟ إِنَّا تَصَبَّرْنَا عَلَى إِيْذَائِكُمْ وَالنَّفْسُ صَارِخَةٌ وَ لَمْ تَتَصَبَّرِ ہم نے تمہارے دکھ دینے پر بتکلف صبر کیا مگر جان فریاد کر رہی ہے اور صبر نہیں کر سکتی۔ إِنَّا نَرَى فِتَنَّا تُذِيبُ قُلُوبَنَا إِنَّا نَرَى صُوَرًا تَهُولُ بِمَنْظَرِ ہم وہ فتنے دیکھ رہے ہیں جو دلوں کو گلاتے ہیں ۔ ہم وہ منہ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں۔ جَاءُوا كَمُفْتَرِسٍ بِنَابٍ دَاعِسٍ دَحْسًا كَكَلبٍ نَّابِحٍ مُّتَشَدِّرِ وہ ایک شکار مارنے والے کی طرح نیزہ مارنے والے دانتوں کے ساتھ آئے قوم میں تفرقہ ڈالنے والے ہیں اس کتے کی طرح جو آواز کرتا اور حملہ کرنے کے لئے اپنی دم اکٹھی کر لیتا ہے كَانُوا ذِيَابًا ثُمَّ وَجَدُوا سَخْلَةً فِي الْبَرِّ مُنْفَرِدًا أَسِيرَ تَحَسُّرِ وہ تو بھیڑیئے تھے سوا نہوں نے جنگل میں ایک اکیلا رہ پایا جو ماندگی کا مارا ہوا تھا۔ وَ تَرى بُطُونَ الْمُفْسِدِينَ كَأَنَّهَا قِرَبٌ بِمَا نَالُوا كَمَالَ تَعَبُّرِ اور مفسدوں کے پیٹوں کو تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ مشکیں ہیں کیونکہ پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ ان میں بل پڑتے ہیں۔ حَاذَتْ مَطَايَاهُمْ عَلَى أَعْنَاقِنَا حَتَّى تَكَسَّرْنَا كَعَظْمِ انْخَرِ انہوں نے اپنی سواریوں کو ہماری گردنوں پر سخت دوڑایا یہاں تک کہ ہم بوسیدہ ہڈی کی طرح ہو گئے ۔ فَاضَ الْعُيُونُ مِنَ الْعُيُونِ كَأَنَّهَا مَاء جَرَى مِنْ عَنْدَمٍ مُّتَعَصِرِ آنکھوں سے چشمے جاری ہو گئے گویا کہ وہ دم الاخوین کا پانی ہے جو اس کے نچوڑ نے کے وقت ٹپک رہا ہے۔ فَنَهَضْتُ أَنْصَحُهُمْ وَكَيْفَ نَصَاحَتِى قَوْمًا اَوَابِدَ مُعْجَبِينَ كَضَيْطَرِ پس میں گالیاں دینے والوں کو نصیحت کرنے کے لئے اٹھا اور میرا نصیحت دینا ایسی قوم کو کیا مفید ہو سکتا تھا جو ایک وحشی او خود بین اور فرومایہ اور بے خبر آدمی کی طرح ہے۔