القصائد الاحمدیہ — Page 129
۱۲۹ ۱۳ إِنِّي مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْأَكْبَرِ حَقٌّ فَهَلْ مِنْ خَائِفٍ مُتَدَبِّرٍ میں اس خدا کی طرف سے ہوں جو بزرگ اور عزت والا ہے یہی بات سچ ہے پس کوئی ہے! جو ڈرے اور سوچے۔ جَاءَتْ مَرَابِيعُ الْهُدَى وَرِهَامُهَا نِزَلَتْ وَجُودٌ بَعْدَهَا كَالْعَسْكَرِ ہدایت کے بہاری مینہ آگئے اور ہلکے ہلکے مینہ تو اُتر آئے اور بڑا مینہ اس کے بعد ایک لشکر کی طرح آنے ولا ہے۔ جُعِلَتْ دِيَارُ الْهِنْدِ اَرْضَ نُزُولِهَا نَصْرًا بِمَا صَارَتْ مَحَلَّ تَنَصُّرِ ان مینہوں کے اترنے کی جگہ ہند کی زمین قرار دی گئی ۔ مدد کے طور پر کیونکہ عیسائی دین مسلمانوں میں پھیلنے کی یہی جگہ ہے۔ فِيهَا جُمُوعٌ يَشْتِمُونَ نَبِيَّنَا فِيهَا زُرُوعٌ مِنْ ضَلَالٍ مُّوثَرِ اس ملک میں ایسے لوگ ہیں جو ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں اس ملک میں گمراہی کی کھیتیاں ہیں جو پسند کی گئی ہیں۔ قَوْمٌ يُعَادُونَ التَّقَى مِنْ خُبُثِهِمْ وَيُؤَيِّدُوْنَ أُمُورَ ضِدَّ تَطَهَّرِ وہ ایک قوم ہے جو بوجہ اپنے خبث کے پر ہیز گاروں سے دشمنی رکھتی ہے اور ناپا کی کی باتوں کو شائع کر رہی ہیں۔ وَ تَكَنَّسَتُ ذَاتَ الْمِرَارِ ظَبِيُّهُمْ إِذْ صُلْتُ عِنْدَ تَنَاضُلٍ كَغَضَفَرِ اور کئی مرتبہ ان کے ہرن مجھ سے چھپ گئے جب کہ میں نے لڑائی کے وقت شیر کی طرح حملہ کیا۔ مِنْهُمْ خَبِيتٌ مُفْسِدٌ مُّتَفَاحِةٌ أُخْبِرْتُ عَنْهُ وَ لَيْتَنِي لَمْ أَخْبَرٍ ان میں سے ایک خبیث، مفسد بد گو دشنام دہ ہے۔ مجھے اس کی اطلاع دی گئی ہے۔ کاش کہ نہ دی جاتی۔ یعنی اس کا وجود ہے نہ ہوتا۔ غُولٌ يَسُبُّ نَبِيَّنَا خَيْرَ الْوَرى لُكَعٌ وَ لَيْسَ بِعَالِمٍ مُّتَبَحْرِ ایک شیطان ہے جو ہمارے نبی افضل المخلوقات کو گالیاں دیتا ہے۔ سفلۂ نادان فرومایہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ کوئی عالم متجر حقائق کی تہہ تک پہنچنے والا ہو۔