القصائد الاحمدیہ — Page 131
۱۳۱ قَدْ غُودِرَ الْإِسْلَامُ مِنْ جَهَلَاتِهِمْ وَخَلَتْ أَمَاعِزُ عَنْ سَحَابٍ مُّمْطِرِ عوام نادان نے ان کے باطل وساوس سے اسلام کو ترک کر دیا اور وہ پتھریلی زمین بر سنے والے بادل سے محروم رہ گئی۔ شَاقَتْ قُلُوبَ النَّاسِ ظُعْنُ جِيَاءِ هِمْ فَتَابَّطُوْا بُرَحَاءَهُمْ بِتَخَيْرِ لوگوں کے دلوں کو ان ہو رج نشینوں نے شوق دلایا جو ان کی ہنڈیوں کے سر پوش کے اندر تھیں سو انہوں نے ان کی بلا کو دیدہ دانستہ بغل میں لے لیا۔ زُجَلٌ عَمُوْنَ مُنَجِّسُوْعَرَصَاتِنَا فَجِئَتْ طَوَائِحُهُمْ كَذِتُبٍ مُّبْكِرٍ اندھی جماعتیں ہیں جو ہمارے ملک کو پلید کر رہی ہیں ان کے حوادث ناگاہ ہم پر پڑے اور وہ ایسے آئے جیسا کہ بھیڑ یا فجر کے وقت شکار کے لئے نکلتا ہے۔ وَالْعَيْنُ بَاكِيَةٌ وَلَيْسَ بُكَاءُنَا شَيْئًا سِوَى الْفَضْلِ الْمُنِيرِا لُمُسْفِرِ آنکھ تو رو رہی ہے مگر ہمارا رونا کچھ حقیقت نہیں رکھتا بجز اس فضل کے جو روشن کرنے والا اور صبح کے وقت آنے والا ہے۔ إِنَّ الْبَلَايَا لَا يَرُدُّ رِكَابَهَا إِلَّا يَدَا مَلِكِ قَدِيرِ أَكْبَرِ بلاؤں کے اونٹ سواروں کو کوئی رد نہیں کر سکتا مگر اُس بادشاہ کے دونوں ہاتھ جو قد بر اور اکبر ہے۔ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لَا يُضِيعُ عِبَادَهُ فَافْرَحُ وَ لَا تَحْزَنُ بِوَقْتٍ مُّضْجِرٍ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرے گا سو تو خوش ہو اورا ۔ خوش ہوا اور ایسے وقت میں جو دل کو تکلیف دینے والا ہے ملین م سے غمگین مت ہو۔ نور الحق جلد اول - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۱۹ تا ۱۲۱)