القصائد الاحمدیہ — Page 98
۹۸ وَ مَا هَمُّهُمْ إِلَّا لِحَظِ نُفُوسِهِمْ وَمَا جَهْدُهُمْ إِلَّا لِعَيْشِ يُوَفَّرُ اور ان کا سارا فکر صرف حظ نفوس کے لئے ہے اور ان کی ساری کوشش صرف عیش و عشرت کے لئے ہے جو بڑھائی جارہی ہے۔ وَقَدْ ضَيَّعُوا بِالْجَهْلِ لَبَنَا سَائِعًا وَلَمْ يَبْقَ فِي الْأَقْدَاحِ إِلَّا مَاضِرُ اور انہوں نے نادانی سے خوشگوار دودھ ضائع کر دیا ہے اور پیالوں میں صرف کھٹا دودھ باقی رہ گیا ہے۔ وَ رَكُبُ الْمَنَايَا قَدْ دَنَاهُمْ بِسَيْفِهِمْ وَهُمْ خَيْلُ شُرِّ مَا دَنَاهُمْ تَحَسُّرُ اور موتوں کا قافلہ اپنی تلوار کے ساتھ ان کے قریب آ گیا ہے اور یہ لوگ حرص کے شاہسوار ہیں (اس پر ) افسوس ان کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔ تَصِيدُهُمُ الدُّنْيَا بِعَظْمَةِ مَكْرِهَا فَيَاعَجَبًا مِنْهَا وَمِمَّا تَمُكُرُ اپنے عظیم مکر سے دنیا ان کا شکار کر رہی ہے پس اس دنیا پر تعجب ہے اور اس کے مکر پر بھی جو وہ کر رہی ہے۔ تُذَكِّرُ إِفْلَاسًا وَجُوعًا وَ فَاقَةً فَتَدْعُو إِلَى الْأَثَامِ مِمَّا تُذَكِّرُ وہ انہیں افلاس، بھوک اور فاقہ یاد دلاتی ہے پھر ان باتوں کو یاد دلانے سے انہیں گناہوں کی طرف دعوت دیتی ہے۔ تُرِيدُ لِتُهْلِكَ فِي التَّغَافِلِ اَهْلَهَا وَقَدْ عُقِرَتْ هِمَمُ الرِّئَامِ وَ تُعْقَرُ وہ چاہتی ہے کہ اہل دنیا کو غفلت میں ہی ہلاک کر دے اور کمینوں کی ہمتیں پست ہو چکی ہیں اور ان کی کونچیں کاٹی جارہی ہے۔ وَ الْهَتْ عَنِ الدِّينِ الْقَوِيمِ قُلُوبَهُمْ فَمَالُوْا إِلَى لُمَعَاتِهَا وَتَخَيَّرُوا اور دنیا نے ان کے دلوں کو سچے دین سے غافل کر دیا ہے پس وہ اس کی چمک دمک پر لٹو ہو کر اسی کے ہو رہے ہیں۔ تَقُودُ إِلى نَارِ اللَّظى وَجَنَاتُهَا وَ لَمَعَاتُهَا تُصْبِي الْقُلُوبَ وَ تَخْتِرُ اس کے رخسار شعلوں والی آگ کی طرف کھینچ کے لے جاتے ہیں اور اس کی چمک دمک دلوں کو مائل کرتی اور دھوکہ دیتی ہے۔ وَ تَدْعُو إِلَيْهَا كُلَّ مَنْ كَانَ هَالِكًا فَكُلٌّ مِّنَ الْأَحْدَاثِ يَدْنُو وَ يَخْطِرُ اور اپنی طرف ہر اس شخص کو جو ہلاک ہونے والا ہو دعوت دیتی ہے۔ پس نو جوانوں میں سے ہر ایک اس کے قریب ہو رہا ہے اور جھوم رہا ہے۔ تَمِيسُ كَبِكْرٍ فِي نِقَابِ الْمَكَائِدِ وَتُبْدِي وَمِيضًا كَاذِبًا وَ تُزَوِّرُ وہ (دنیا) کنواری کی طرح مٹک کر چلتی ہے مکروں کے نقاب میں۔ اور جھوٹی چمک دمک ظاہر کرتی ہے اور دھوکہ دیتی ہے۔