القصائد الاحمدیہ — Page 97
۹۷ فَإِنَّ هَلَاكَ النَّاسِ عِنْدَ أُولِي النُّهَى أَحَبُّ وَ أَوْلَى مِنْ ضَلَالٍ يُخَسِرُ کیونکہ لوگوں کا ہلاک ہو جانا عقلمندوں کے نزدیک زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے گھاٹے میں ڈالنے والی گمراہی سے۔ عَلَى جُدُرِ الْإِسْلَامِ نَزَلَتْ حَوَادِثٌ وَذَاكَ بِسَيِّئَاتٍ تُذَاعُ وَ تُنْشَرُ اسلام کی دیواروں پر حوادث نازل ہو چکے ہیں اور یہ ان برائیوں کی وجہ سے ہیں جو عام ہورہی ہیں اور پھیلائی جارہی ہیں۔ وَفِي كُلِّ طَرْفِ نَارُ فِتَن تَاجَجَتْ وَفِي كُلِّ ذَنْبٍ قَدْ تَرَاءَى التَّقَعُرُ ہر طرف فتنوں کی آگ بھڑک رہی ہے اور ہر گناہ میں گہرائی دکھائی دے رہی ہے۔ وَ مِنْ كُلِّ جِهَةٍ كُلُّ ذِئْبٍ وَنَمْرَةٍ يَعِيتُ بِوَتُبِ وَالْعَقَارِبُ تَأْبَرُ اور ہر طرف سے ہر بھیڑیا اور چیتا حملے کے ذریعہ تباہی ڈال رہا ہے اور بچھو کاٹ رہے ہیں۔ وَ عَيْنُ هِدَايَاتِ الْكِتَابِ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِينُ وَالْأَرَامُ يَمْشِي وَيَعْبُرُ اور کتاب اللہ کی ہدایتوں کا چشمہ گدلا ہو گیا ہے۔ اس چشمے میں جنگلی گائیں اور ہرن چل اور گذر رہے ہیں۔ تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ عَاصِفٍ وَاَرْخَى سُدُولَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَدِّرُ گمراہیاں تند ہوا کی طرح نظر آ رہی ہیں اور تاریکی پیدا کرنے والی رات نے گمراہی کے پردے لڑکا دیتے ہیں۔ وَلِلدِّينِ أَطْلَالُ أَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَ دَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں جنہیں میں افسردہ شخص کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے آنسو اس کے محلات کی یاد میں بہ رہے ہیں۔ أَرَى الْعَصْرَ مِنْ نَّوْمِ الْبَطَالَةِ نَائِمًا وَكُلُّ جَهُولٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَرُ میں زمانہ کو باطل پرستی کی نیند میں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ہر جاہل اپنی خواہشوں میں اترا رہا ہے۔ وَ لَيْلًا كَعَيْنِ الظَّبي غَابَتْ نُجُومُهُ وَ دَاءً لِشِدَّتِهِ عَنِ الْمَوْتِ يُخْبِرُ اور میں ہرن کی آنکھ جیسی سیاہ رات کو دیکھ رہا ہوں کہ اس کے ستارے غائب ہو گئے ہیں۔ اور اس بیماری کو دیکھ رہا ہوں جو اپنی شدت کی وجہ سے موت کی خبر دے رہی ہے۔ نَسُوا نَهْجَ دِينِ اللهِ خُبْشًا وَ غَفْلَةً وَأَفْعَالُهُمْ بَغَى وَ فِسْقٌ وَ مَيْسِرُ انہوں نے دینِ الہی کا راستہ خبث اور غفلت سے بھلا دیا ہے اور ان کے افعال بغاوت، فسق اور جوا بازی ہیں ۔