القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 99

۹۹ وَ دَقَّتْ مَكَائِدُهَا فَلَمْ يُدْرَ سِرُّهَا لِمَا نَسَجَتُهَا مِنْ فُنُونٍ تُكَوِّرُ اور اس کے مکر باریک ہیں اور اس کا بھید نہیں جانا جا سکتا اس لئے کہ اس نے ان کا حال ایسی حیلہ سازیوں سے بنا ہے جنہیں وہ چھپارہی ہے۔ وَ تَبْدُو كَتُرْسٍ فِي زَمَانٍ بِكَيْدِهَا وَفِي سَاعَةٍ أُخْرَى حُسَامٌ مُشَهَّرُ اور کبھی تو وہ اپنے فریب سے ڈھال کی طرح سامنے آتی ہے اور دوسری ہی گھڑی وہ کھچی ہوئی تلوار ہوتی ہے۔ وَ عَيْنٌ لَّهَا تُصْبِي الْوَرى فَتَانَةٌ وَلِقَتْلِ أَهْلِ الْفِسْقِ كَشْحٌ مُّخَصَّرُ اور اس کی فتنہ پرداز آنکھ مخلوق کو اپنی طرف مائل کرتی ہے اور فاسقوں فاجروں کے قتل کے لئے وہ دنیا پتلی کمر ( والی حسینہ ) ہے۔ عَجِبْتُ لِمَنْظَرِ ذَاتِ شَيْبٍ عَجُوزَةٍ اَنِيقٌ لِعَيْنِ النَّاظِرِينَ وَ أَزْهَرُ لک مجھے حیرت ہے اس عاجز بڑھیا کے منظر پر جو دیکھنے والوں کی نگاہ میں خوبصورت اور روشن جمال ہے۔ لَزِمُتُ اصْطِبَارًا إِذْ رَأَيْتُ جَمَالَهَا فَقُلْتُ إِلهِي أَنْتَ كَهْفِي وَمَأْزَرُ میں نے صبر کو لازم کر لیا جب میں نے اس کے جمال پر اطلاح پائی۔ میں نے کہا میرے خدا! تو ہی میرا ملجاء اور ماؤی ہے۔ فَصَيَّرَهَا رَبِّي لِنَفْسِي سُرِّيَّةً كَجَارِيَةٍ تُلْقَى بِطَوْعٍ وَتُهْجَرُ سوا سے میرے رب نے اسے میرے لئے لونڈی بنادیا۔ ایسی لونڈی کی طرح جس سے وصال اور جدائی خود اپنی مرضی سے اختیار کی جاتی ہے۔ وَذَلِكَ فَضْلٌ مِنْ كَرِيمٍ وَ مُحْسِنٍ وَيُعْطِي الْمُهَيْمِنُ مَنْ يَشَاءُ وَ يَحْجُرُ اور کریم اور محسن خدا کی طرف سے یہ ایک فضل ہے اور نگران خدا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور روک لیتا ہے۔ وَ قَدْ ضَاقَتِ الدُّنْيَا عَلَى عُشَّاقِهَا وَيَبْغُونَهَا عِشْقًا وَحُبًّا فَتُدْبِرُ اور دنیا اپنے عاشقوں پر تنگ ہو گئی ہے وہ اسے عشق اور محبت سے چاہتے ہیں تو وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔ تَزَاحَمَتِ الطَّلَّابُ حَوْلَ لُحُومِهَا كَمِثْلِ كِلَابِ وَالْمَنَايَا تَسْخَرُ ( اسکے ) طالب اس کے گوشت کے گرد ہجوم کر رہے ہیں کتوں کی مانند اور موتیں (ان پر ) ہنس رہی ہیں ۔ وَ إِنَّ هَوَاهَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ فَخَفْ حُبَّهَا يَا أَيُّهَا الْمُتَبَصِرُ اس کا عشق ہر ایک خطا کی جڑ ( منبع ) ہے پس اس کی محبت سے ڈر۔اے بصیرت رکھنے والے!