سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 99
صلى الله سيرة النبي علي 84 جلد 7 اور کہا ذرا پیچھے پہاڑی درہ پر نگاہ ڈالو ۔ عمرو بن العاص نے جب درہ پر نگاہ ڈالی تو سمجھا کہ عمر کا بہترین موقع مجھے حاصل ہو رہا ہے۔ اپنے بھاگتے ہوئے دستوں کو دونوں جرنیلوں نے سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ چند مسلمان جو وہاں درہ کی حفاظت کے لئے کھڑے رہ گئے تھے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے پشت پر سے اسلامی لشکر پر آپڑے۔ اُن کے فاتحانہ نعروں کو سن کر سامنے ہوا منے کا بھاگتا ہوا بقیہ لشکر بھی میدان جنگ کی طرف لوٹ پڑا۔ یہ حملہ ایسا اچانک اور کافروں کا تعاقب کرنے کی وجہ سے مسلمان اتنے پھیل چکے تھے کہ کوئی باقاعدہ اسلامی لشکر اُن لوگوں کے مقابلہ میں نہیں تھا۔ اکیلا اکیلا سپاہی میدان میں نظر آ رہا تھا جن میں سے بعض کو اُن لوگوں نے مار دیا۔ باقی اس حیرت میں کہ یہ ہو کیا گیا ہے پیچھے کی طرف دوڑے۔ چند صحابہؓ دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ میں تھی 82 - کفار نے شدت کے ساتھ اُس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ یکے بعد دیگرے صحابہؓ آپ کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے لگے علاوہ شمشیر زنوں کے تیرانداز اونچے ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بے تحاشا تیر مارتے تھے۔ اُس وقت طلحہ نے جو قریش میں سے تھے اور مکہ کے مہاجرین میں شامل تھے یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن سب کے سب تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی طرف پھینک رہا ہے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا۔ تیر کے بعد تیر جو نشانہ پر گرتا تھا وہ طلحہ کے ہاتھ پر گرتا تھا مگر جانباز اور وفادار صحابی اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہیں دیتا تھا۔ اس طرح تیر پڑتے گئے اور طلحہ کا ہاتھ زخموں کی شدت کی وجہ سے بالکل بیکار ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ اُن کا باقی رہ گیا۔ سالہا سال بعد اسلام کی چوتھی خلافت کے زمانہ میں جب مسلمانوں میں خانہ جنگی واقع ہوئی تو کسی دشمن نے طعنہ کے طور پر طلحہ کو کہا ٹنڈا۔ اس پر ایک دوسرے صحابی نے کہا ہاں ٹنڈ ا ہی ہے