سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 100

صلى الله سيرة النبي علي 85 جلد 7 مگر کیسا مبارک ٹنڈا ہے۔ تمہیں معلوم ہے طلحہ کا یہ ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی زور سے صلى الله حفاظت میں ٹھنڈا ہوا تھا۔ اُحد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہ سے پوچھا کہ جب تیر آپ اتھا۔ احد کی جنگ کے بعد کچھ ھی ۔ کے بعد کس شخص نے طلحہ ے پو چھا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی؟ طلحہ نے جواب دیا درد بھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہا تھ ہل جائے اور تیر رسول کریم ﷺ کے منہ پر آگرے۔ مگر یہ چند لوگ کب تک اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ لشکر کفار کا ایک گروہ آگے بڑھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد کے سپاہیوں کو دھکیل کر اس نے پیچھے کر دیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا پہاڑ کی طرح وہاں کھڑے تھے کہ رسے سے ایک پتھر آپ کے خود پر لگا اور خود کے کیل آپ کے سر پر گھس گئے اور آپ بیہوش ہو کر اُن صحابہؓ کی لاشوں پر جاپڑے جو آپ کے اردگر دلڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھے 83 اس کے بعد کچھ اور صحابہؓ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اُن کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں ۔ کفار نے آپ آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر سمجھا کہ آپ مارے جا چکے ہیں ۔ چنانچہ مکہ کا لشکر اپنی صفوں کو درسہ کرنے کے لئے پیچھے ہٹ گیا۔ جو صحابہ آپ کے گرد کھڑے تھے اور جن کو کفار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے گیا تھا اُن میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ میدان سب لڑنے والوں سے صاف ہو چکا ہے تو آپ کو یقین ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں ایک ہی وقت میں قیصر اور کسری کا مقابلہ بڑی دلیری سے کیا اور اُس کا دل کبھی نہ گھبرایا اور کبھی نہ ڈرا وہ ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا ۔ اتنے میں مالک حمید نامی ایک صحابی جو اسلامی لشکر کی فتح کے وقت پیچھے ہٹ گئے تھے کیونکہ اُنہیں فاقہ تھا اور رات سے اُنہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا جب فتح ہو گئی تو وہ چند کھجوریں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تا کہ اُنہیں یہ سہوا درج ہوا ہے۔ یہ صحابی حضرت انس بن النضر تھے جو حضرت انس بن مالک کے چچا تھے۔ -