سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 101
ة صلى الله سيرة النبي علي 86 جلد 7 کھا کر اپنی بھوک کا علاج کریں ۔ وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے حضرت عمر تک جا پہنچے اور عمر کو روتے ہوئے دیکھ کر نہایت ہی حیران ہوئے اور ہوئے دیکھ ہوئے اور حیرت سے پوچھا عمر ! آپ کو کیا ہوا ؟ اسلام کی فتح پر آپ کو خوش ہونا چاہئے یا رونا چاہئیے ؟ عمر نے جواب میں کہا مالک ! شاید تم فتح کے معا بعد پیچھے ہٹ آئے تھے تمہیں معلوم نہیں کہ لشکر کفار پہاڑی کے دامن سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر پر حملہ آور ہوا اور چونکہ مسلمان پر اگندہ ہو چکے تھے اُن کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ سمیت اُن کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے ۔ مالک نے کہا عمر! اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو آپ یہاں بیٹھے کیوں رو رہے ہیں؟ جس دنیا میں ہمارا محبوب گیا ہے ہمیں بھی تو وہیں جانا چاہئے ۔ یہ کہا اور وہ آخری کھجور جو آپ کے ہاتھ میں تھی جسے آپ منہ میں ڈالنے ہی والے تھے اُسے یہ کہتے ہوئے زمین پر پھینک دیا کہ اسے کھجور ! مالک اور جنت کے درمیان تیرے سوا اور کونسی چیز روک ہے۔ یہ کہا اور تلوار لے کر دشمن کے لشکر میں گھس گئے ۔ تین ہزار آدمی کے مقابلہ میں ایک آدمی کر ہی کیا سکتا تھا مگر خدائے واحد کی پرستار روح ایک بھی بہتوں پر بھاری ہوتی ہے ۔ مالک اس بے جگری سے لڑے کہ دشمن حیران ہو گیا ۔ مگر آخر زخمی ہوئے پھر گرے اور گر کر بھی دشمن کے سپاہیوں پر حملہ کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کفار مکہ نے اس وحشت سے آپ پر حملہ کیا کہ جنگ کے بعد آپ کی لاش کے 70 ٹکڑے ملے حتیٰ کہ آپ کی لاش پہچانی نہیں جاتی تھی ۔ آخر ایک انگلی سے آپ کی بہن نے پہچان کر بتایا کہ یہ میرے بھائی مالک (انس ۔ ناقل ) کی لاش ہے 84 ۔ وہ صحابہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تھے اور جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دیئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے ۔ آپ کے جسم مبارک کو اُنہوں نے اٹھایا اور ایک صحابی عبیدہ بن الجراح نے اپنے دانتوں سے آپ کے سر میں گھسی ہوئی میخ کو زور سے نکالا جس سے