سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 98

سيرة ة النبي علي صلى الله 83 جلد 7 ساتھیوں کو لے کر یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ اب یہ لڑائی نہیں رہی 80 ۔ یہ تو ہلاکت کے منہ میں جانا ہے کیونکہ خود اپنے مددگاروں کو لڑائی سے روکا جاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صرف سات سو رہ گئے جو تعداد میں کفار کی تعداد سے چوتھے حصہ سے بھی کم تھے اور سامانوں کے لحاظ سے اور بھی کمزور ۔ کیونکہ کفار میں سات سو زرہ پوش تھا اور مسلمانوں میں صرف ایک سو زرہ پوش ۔ اور کفار میں دو سو گھوڑ سوا رتھا مگر مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔ آخر آپ اُحد مقام پر پہنچے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر کئے اور سپاہیوں کے افسر کو تاکید کی کہ یہ درہ اتنا ضروری ہے کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم نے اس جگہ سے نہیں ہلنا 81۔ اس کے بعد آپ بقیہ ساڑھے چھ سو آدمی لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے جواب دشمن کی تعداد سے قریباً پانچواں حصہ تھے۔ لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے تھوڑی ہی دیر میں ساڑھے چھ سو مسلمانوں کے مقابلہ ادیر میں ساڑھے چھ سے میں تین ہزار مکہ کا تجربہ کار سپاہی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔ فتح مبدل به شکست مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کیا تو وہ لوگ جو پشت کے درہ کی حفاظت کے لئے کھڑے تھے اُنہوں نے اپنے افسر سے کہا اب تو دشمن کو شکست ہو چکی ہے اب ہمیں بھی جہاد کا ثواب لینے دیا جائے ۔ افسر نے اُن کو اس بات سے روکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد دلائی مگر اُنہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا صرف تاکید کے لئے فرمایا تھا ورنہ آپ کی مراد یہ تو نہ ہو سکتی تھی کہ دشمن بھاگ بھی جائے تو یہاں کھڑے رہو۔ یہ کہہ کر اُنہوں نے درہ چھوڑ دیا اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔ بھاگتے ہوئے لشکر میں سے خالد بن ولید کی جو بعد میں اسلام کے بڑے بھاری جرنیل ثابت ہوئے نظر خالی درّہ پر پڑی جہاں صرف چند آدمی اپنے افسر کے ساتھ کھڑے تھے۔ خالد نے کفار کے لشکر کے دوسرے جرنیل عمرو بن العاص کو آواز دی