سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 97
سيرة النبي علي صلى الله 82 جلد 7 ایک مینڈھے کی پیٹھ پر سوار ہوں ۔ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ الله! آپ نے ان خوابوں کی کیا تعبیر فرمائی ؟ آپ نے فرمایا گائے کے ذبح ہونے کی تعبیر یہ ہے کہ میرے بعض صحابہؓ شہید ہوں گے اور تلوار کا سرا ٹوٹنے سے مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کوئی اہم وجود شہید ہو گا یا شاید مجھے ہی اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا مدینہ میں ٹھہر نا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفار کے لشکر کے سردار پر ہم غالب آئیں گے یعنی وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا 78 ۔ گو اس خواب میں مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اُن کا مدینہ میں رہنا زیادہ اچھا ہے مگر چونکہ خواب کی تعبیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی الہامی نہیں تھی آپ نے اکثریت کی رائے کو تسلیم کر لیا اور لڑائی کے لئے باہر جانے کا فیصلہ کر دیا۔ جب آپ باہر نکلے تو نوجوانوں کو اپنے دلوں میں ندامت محسوس ہوئی اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! جو آپ کا مشورہ ہے وہی صحیح ہے ہمیں مدینہ میں ٹھہر کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ آپ نے فرمایا خدا کا نبی جب زرہ پہن لیتا ہے تو اتارا نہیں کرتا اب خواہ کچھ ہو ہم آگے ہی جائیں گے ۔ اگر تم نے صبر سے کام لیا تو خدا کی نصرت تم کو مل جائے گی 79 ۔ یہ کہہ کر آپ ایک ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر رات بسر کرنے کے لئے ڈیرہ لگا دیا۔ آپ کا ہمیشہ طریق تھا کہ آپ دشمن کے پاس پہنچ کر اپنے لشکر کو کچھ دیر آرام کرنے کا موقع دیا کرتے تھے تا کہ وہ اپنا سامان وغیرہ تیار کر لیں ۔ صبح کی نماز کے وقت جب آپ نکلے تو آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ یہودی بھی اپنے معاہد قبیلوں کی مدد کے بہانہ سے آئے ہیں ۔ چونکہ یہود کی ریشہ دوانیوں کا آپ کو علم ہو چکا تھا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو واپس کر دیا تھا نے دیا جائے ۔ اس پر عبداللہ بن ابی بن سلول جو منافقوں کا رئیس تھا وہ بھی اپنے تین سو