سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 94

له صلى الله سيرة ابي عليه 79 جلد 7 وقت آگیا ہے۔ - غرض چونکہ وہ وقت آگیا تھا جس کی خبر یسعیاہ نبی نے قبل از وقت دے چھوڑی تھی 75 اور جس کی خبر قرآن کریم نے دوبارہ جنگ شروع ہونے سے چھ یا آٹھ سال پہلے دی تھی اس لئے باوجود اس کے کہ مسلمان اس جنگ کے لئے تیار نہ تھے اور باوجود اس کے کہ کفار کو بھی اُن کے بعض ساتھیوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ لڑائی نہیں کرنی چاہئے لڑائی ہو گئی اور 313 آدمی جن میں سے اکثر نا تجربہ کار اور سب ہی بے سامان تھے کفار کے تجربہ کار لشکر کے مقابلہ میں جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی کھڑے ہو گئے ۔ جنگ ہوئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر عرب کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ۔ یسعیاہ کی پیشگوئی کے مطابق قیدار کی حشمت جاتی رہی اور مکہ کی فوج کچھ لاشیں اور کچھ قیدی چھوڑ کر سر پر پاؤں رکھ کر مکہ کی طرف بھاگ پڑی۔ جو قیدی پکڑے گئے اُن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا عباس بھی تھے جو ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا کرتے تھے، انہیں مجبور کر کے مکہ والے اپنے ساتھ لڑائی کے لئے لے آئے تھے۔ اسی نے ساتھ لڑائی کے لئے طرح قیدیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی کے خاوند ابوالعاص بھی تھے۔ مارے جانے والوں میں ابو جہل مکہ کی فوج کا کمانڈر اور اسلام کا سب سے بڑا دشمن بھی شامل تھا۔ بدر کے قیدی اس فتح پر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خو بھی تھے کہ وہ پیشگوئیاں جو متواتر چودہ سال سے آپ کے ذریعہ سے شائع کی جا رہی تھیں اور وہ پیشگوئیاں جو پہلے انبیاء اس دن کے متعلق کر چکے تھے پوری ہو گئیں لیکن مکہ کے مخالفوں کا عبرتناک انجام بھی آپ کی نظروں کے سامنے تھا۔ آپ کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص ہوتا تو خوشی سے اچھلتا اور گو دتا لیکن جب آپ کے سامنے سے مکہ کے قیدی رسیوں میں بندھے ہوئے گزرے تو آپ اور آپ کے باوفا ساتھی ابوبکر کی آنکھوں ں میں بندھی ہو۔ تو کے باوفا سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے ۔ اُس وقت حضرت عمرؓ جو بعد میں آپ کے