سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 93

ة سيرة النبي علي صلى الله 78 جلد 7 کی باتیں آئی تھیں لیکن اُنہوں نے ہماری تمام آیتوں کا انکار کیا پس ہم نے اُن کو اس طرح پکڑ لیا جیسے ایک طاقتور غالب ہستی پکڑا کرتی ہے۔ ( اے مکہ والو! ) بتاؤ کیا تمہارے کفار اُن (کفار) سے اچھے ہیں یا تمہارے لئے پہلی کتابوں میں حفاظت کا کوئی وعدہ آچکا ہے؟ وہ کہتے ہیں ہم تو ایک بڑی طاقت ہیں جو دشمنوں سے ہارتی نہیں بلکہ دشمنوں سے بدلے لیا کرتی ہے ( وہ یہ باتیں کرتے رہیں ) اُن کے جتھے عنقریب اکٹھے ہوں گے اور پھر انہیں شکست ملے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے بلکہ اُن کی تباہی کی گھڑی کا خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے اور یہ تباہی کی گھڑی بڑی ہلاکت والی اور بڑی کڑوی ہوگی ۔ اُس دن مجرم پریشانی اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اپنے مونہوں کے بل گھسیٹ کر اُن کو آگ کے گڑھوں میں ڈال دیا جائے گا اور کہا جائے گا اب پڑے عذاب چکھو۔ یہ آیتیں سورۃ قمر کی ہیں اور سورۃ قمر تمام اسلامی روایتوں کے مطابق مکہ میں نازل ہوئی تھی ۔ مسلمان علماء بھی اس سورۃ کو پانچویں سے دسویں سال بعد دعوی نبوت کے قرار دیتے ہیں۔ یعنی ہجرت سے کم سے کم تین سال پہلے یہ نازل ہوئی تھی بلکہ غالباً آٹھ سال پہلے ۔ یورپین محقق بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ چنانچہ نولڈ کے اس سورۃ کو دعوی نبوت کے پانچ سال بعد کی قرار دیتا ہے ۔ ریورنڈ ویری لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک نولڈ کے نے اس سورۃ کے نزول کا وقت کسی قدر پہلے قرار دے دیا ہے۔ وہ اپنا اندازہ یہ بتاتے ہیں کہ چھٹے یا ساتویں سال ہجرت سے پہلے یہ نازل ہوئی ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اُن کے نزدیک یہ سورۃ چھٹے یا ساتویں سال بعد دعوی نبوت کی ہے ۔ بہر حال مسلمانوں کے دشمنوں نے بھی اس سورۃ کو ہجرت سے کئی سال پہلے کا قرار دیا ہے۔ اُس زمانہ میں کس صفائی کے ساتھ اس جنگ کی خبر دی گئی تھی اور کفار کا انجام بتا دیا گیا تھا اور پھر کس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ان آیات کو پڑھ کر مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا