سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 92

سيرة النبي علي صلى الله 77 جلد 7 کے لئے بھیجا کہ وہ اندازہ کرے کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ جب وہ واپس لوٹا تو اُس نے بتایا کہ مسلمان تین سوا تین سو کے قریب ہوں گے۔ اس پر ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا اب مسلمان ہم سے بچ کر کہاں جاتے ہیں ۔ مگر اُس شخص نے کہا اے مکہ والو ! میری نصیحت تم کو یہی ہے کہ تم ان لوگوں سے نہ لڑو کیونکہ میں نے جتنے آدمی مسلمانوں کے دیکھے ہیں اُن کو دیکھ کر مجھ پر یہی اثر ہوا ہے کہ اونٹوں پر آدمی سوار نہیں موتیں سوار ہیں 72 یعنی اُن میں سے ہر شخص مرنے کیلئے اس میدان میں آیا ہے زندہ واپس جانے کے لئے نہیں آیا۔ اور جو شخص موت کو اپنے لئے آسان کر لیتا ہے اور موت کو ملنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اُس کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی ت نہیں ہوا کرتی ۔ ایک عظیم الشان پیشگوئی کا پورا ہونا جب جنگ شروع ہونے کا وقت آیا رسول کریم ﷺ اُس جگہ سے جہاں آپ بیٹھ کر دعا کر رہے تھے باہر تشریف لائے اور فرمایا سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ 73 ۔ دشمنوں کا لشکر شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر میدان چھوڑ جائے اس جنگ گا ۔ یہ الفاظ جو آپ نے فرمائے یہ قرآن کریم کی ایک پیشگوئی تھی جو مکہ میں ہی اس : کے متعلق قرآن کریم میں نازل ہوئی تھی ۔ مکہ میں جب مسلمان کفار کے ظلموں کا تختہ مشق ہو رہے تھے اور اِدھر اُدھر ہجرت کر کے جا رہے تھے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی یہ آیات نازل فرمائیں وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ - كَذَّبُوا بِايَتِنَا كُلَّهَا فَأَخَذْتُهُمْ أَخْذَ عَزِيزِ مُّقْتَدِرٍ - أَكْفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أولَيكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ - أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرُ ۔ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَآمَرُ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَلٍ وَسُعْرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ -74 - یعنی اے مکہ والو! فرعون کی طرف بھی انذار