سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 91

سيرة رة النبي علي صلى الله 76 جلد 7 ہیں وہی ابو جہل ہے۔ وہ کہتے ہیں ابھی میری انگلی نیچے نہیں گری تھی کہ وہ دونوں لڑکے جس طرح عقاب چڑیا پر حملہ کرتا ہے اس طرح چیختے ہوئے کفار کی صفوں میں گھس پر حملہ کرتا ہے اس دیتے ہو نے کفار کی صفوں گئے ۔ اُن کا یہ حملہ ایسا اچانک اور ایسا خلاف توقع تھا کہ کسی شخص کی تلوار اُن کے خلاف نہ اٹھ سکی اور وہ تیر کی سی تیزی کے ساتھ ابو جہل تک جا پہنچے۔ اُس کے پہرہ داروں نے اُن پر وار کئے ، ایک کا وار خالی گیا اور دوسرے کے وار سے ایک نوجوان کا ہاتھ کٹ گیا ۔ لیکن دونوں میں سے کسی نے کوئی پرواہ نہ کی اور صرف ابوجہل کی طرف متوجہ ہوئے اور اُس پر اس زور سے جا کر حملہ کیا کہ وہ زمین پر گر گیا اور پھر اُنہوں نے اُسے نہایت شدید زخمی کر دیا 71 - مگر بوجہ تلوار چلانے کا فن نہ جاننے کے اُسے قتل نہ کر سکے ۔ اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ مظالم جو مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے رہے تھے وہ قریب سے دیکھنے والوں کو کتنے بھیا تک نظر آتے تھے۔ مظالم کو تاریخ میں پڑھ کر ایک شریف آدمی کا دل دھڑ کنے لگتا ہے کو میں کر دھڑکنے ہے اب اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ مگر مدینہ کے لوگ تو اُن لوگوں کے منہ سے مظالم کی داستانیں سنتے تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ مظالم ہوتے دیکھے۔ ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس اور صلح جو یا نہ زندگی کو دیکھتے تھے دوسری طرف مکہ والوں کے انسانیت سوز مظالم کے واقعات سنتے تھے تو اُن کے دل اس حسرت سے بھر جاتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی صلح جوئی اور پر عافیت مزاج کی وجہ سے ان لوگوں کا جواب نہیں دیا کاش ! وہ ہمارے سامنے آجائیں تو ہم انہیں بتائیں کہ اگر اُن کے ظلموں کا جواب نہیں دیا گیا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کا جواب دینے کی اجازت نہیں تھی۔ مسلمانوں کے دلوں کی کیفیت کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ابو جہل نے ایک بدوی سردار کو اس بات