سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 90
صلى الله سيرة النبي علي 75 جلد 7 مارے جائیں گے اور فلاں فلاں جگہ پر مارے جائیں گے ۔ چنانچہ جنگ میں ایسا ہی ۔ ہوا اور وہ دشن ان ہی جگہوں پر جو آپ نے بتائی تھیں مارے گئے ۔ جب فوج - ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آراء ہوئی اُس وقت جو اخلاص کا نمونہ صحابہؓ نے دکھا یا اُس پر مندرجہ ذیل مثال سے خوب روشنی پڑتی ہے۔ اسلامی لشکر میں جو چند تجربہ کار جرنیل تھے اُن میں سے ایک حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی تھے جو مکہ کے سرداروں سرداروں میں سے تھے۔ وہ روایت وہ روایت کرتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ آج مجھ پر بہت سی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس خیال سے میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے دائیں بائیں مدینہ کے دو نو جوان لڑکے ہیں تب میرا دل سینہ میں بیٹھ گیا اور میں نے کہا بہادر جرنیل لڑنے کے لئے اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اُس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہوتا کہ وہ دشمن کی صفوں میں دلیری سے گھس سکے لیکن میرے گرد مدینہ کے ناتجربہ کارلڑکے ہیں میں آج اپنے فن کا مظاہرہ کس طرح کر سکوں گا ۔ ابھی یہ خیال میرے دل میں گزرا ہی تھا کہ میرے ایک پہلو میں کھڑے ہوئے لڑکے نے میری پہلی میں کہنی ماری۔ جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے میرے کان میں کہا چچا! ہم نے سنا ہے ابو جہل رسول اللہ صلی اللہ لیہ وسلم کو بہت دکھ دیا کرتا تھا۔ چچا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں آج اُس کے ساتھ مقابلہ کروں آپ مجھے بتائیں وہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں جواب دینے نہ پایا تھا کہ میرے دوسرے پہلو میں دوسرے ساتھی نے کہنی ماری اور جب میں اُس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے بھی آہستہ سے وہی سوال مجھ سے کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اُن کی اس دلیری پر حیران رہ گیا کیونکہ با وجود تجربہ کار سپاہی ہونے کے میں بھی یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ لشکر کے کمانڈر پر اکیلا جا کر حملہ کر سکتا ہوں ۔ وہ کہتے ہیں میں نے اُن کے اس سوال پر انگلی اٹھائی اور کہا وہ شخص جو سر سے پیر تک مسلح ہے اور دشمن کی صفوں کے پیچھے کھڑا ہے اور جس کے آگے دو تجربہ کار جرنیل ننگی تلواریں لئے کھڑے