سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 89

سيرة ابي عليه 74 جلد 7 بڑھ کر اخلاص اور ایمان کا نمونہ دکھایا اور دونوں فریق نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ خدا کے وعدوں کے باوجود تعداد میں دشمن سے ایک تہائی ہونے کے اور باوجود سامانوں کے لحاظ سے دشمنوں سے کئی گنا کم ہونے کے بے غیرتی دکھاتے ہوئے جنگ سے پیٹھ نہیں دکھائیں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے دین کی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں خوشی سے جان دے دیں گے تو آپ آگے بڑھے۔ جب آپ بدر کے مقام پر پہنچے تو ایک صحابی کے مشورہ سے دشمن کے قریب جا کر بدر کے چشمہ پر اسلامی لشکر اتار دیا گیا۔ لیکن اس طرح گو پانی پر تو قبضہ ہو گیا مگر وہ میدان جو مسلمانوں کے حصہ میں آیا بوجہ ریتلا پتلا ہونے کے کے جنگی حرکات کے لئے سخت نقصان و نقصان دہ ثابت ہوا اور صحابہ گھبرا گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات دعا کرتے رہے اور بار بار خدا تعالیٰ سے یہ فرماتے تھے کہ اے میرے رب ! ساری دنیا کے پردہ پر صرف یہی لوگ تیری عبادت کرنے والے ہیں۔ اے میرے رب ! اگر یہ لوگ آج اس لڑائی میں مارے گئے تو تیرا نام لینے والا دنیا میں کون باقی رہے گا 70 ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور رات کو بارش ہوگئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس میدان میں مسلمان تھے بوجہ ریتلا ہونے کے بارش کی وجہ سے جم گیا اور وہ میدان جو کفار کے قبضہ میں تھا بوجہ چکنی مٹی کا ہونے کے بارش کی وجہ سے نہایت پھسلواں ہو گیا۔ شاید کفار مکہ نے باوجود اُس میدان میں مسلمانوں سے پہلے پہنچ جانے کے اس لئے اُس میدان کو چنا تھا کہ پختہ مٹی کی وجہ سے اُس میں جنگی حرکات بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتی تھیں اور سامنے کا ریتلا میدان اس لئے چھوڑ دیا کہ مسلمان وہاں ڈیرہ لگائیں گے اور جنگی حرکات کرتے وقت اُن کے پاؤں رہیت میں دھنس پھنس جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے راتوں رات پانسہ پلٹ دیا۔ ریتلا میدان ایک جما ہوا پختہ میدان بن گیا اور پختہ میدان پھسلویں زمین بن گیا ۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی اور بتایا کہ تمہارے فلاں فلاں دشمن