سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 95
سيرة النبي علي صلى الله 80 جلد 7 دوسرے خلیفہ ہوئے سامنے سے آئے تو اُنہیں حیرت ہوئی کہ اس فتح اور خوشی کے وقت میں آپ کیوں رورہے ہیں اور انہوں نے کہا یارسول اللہ! مجھے بھی بتائیے کہ رَسُولَ اس وقت رونے کا کیا باعث ہے؟ اگر وہ بات میرے لئے بھی رونے کا موجب ہے تو میں بھی روؤں گا نہیں تو کم سے کم میں آپ کے ساتھ شریک ہونے کے لئے رونی صورت ہی بناؤں گا ۔ آپ نے فرمایا دیکھتے نہیں خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے آج مکہ والوں کی کیا حالت ہو رہی ہے 76 ۔ - آپ کے انصاف اور آپ کی عدالت کا جس کی خبر یسعیاہ نبی نے بار بار اپنی پیشگوئیوں میں دی ہے اس موقع پر ایک لطیف ثبوت ملا ۔ مدینہ کی طرف واپس آتے ہوئے رات کو جب آپ سونے کے لئے لیٹے تو صحابہؓ نے دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آتی ۔ آخر انہوں نے سوچ کر یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے چچا عباس چونکہ رسیوں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے سونہیں سکتے اور اُن کے کراہنے کی آوازیں آتی ہیں اس لئے اُن کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کو نیند نہیں آتی ۔ اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے حضرت عباس کے بندھنوں کو ڈھیلا کر دیا۔ حضرت عباس سو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نیند آ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد یکدم گھبرا کے آپ کی آنکھ کھلی اور آپ نے پوچھا عباس خاموش کیوں ہیں؟ اُن کے کراہنے کی آواز اب کیوں نہیں آتی ؟ آپ کے دل میں یہ وہم پیدا ہوا کہ شاید تکلیف کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گئے ۔ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم نے آپ کی تکلیف کو دیکھ کر اُن کے بندھن ڈھیلے کر دیئے ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں انہیں !! یہ بے انصافی نہیں ہونی چاہئے ۔ جس طرح عباس میرا رشتہ دار ہے دوسرے قیدی بھی تو دوسروں کے رشتہ دار ہیں یا تو سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دو تا کہ وہ آرام سے سو جائیں اور یا پھر عباس کے بندھن بھی کسی دو۔ صحابہؓ نے آپ کی بات سن کر سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دیئے اور حفاظت کی ساری ذمہ داری اپنے سر پر لے لی 77 - جو لوگ قید ہوئے تھے اُن میں سے جو پڑھنا