سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 86

سيرة النبي علي صلى الله 71 جلد 7 اس کی اطلاع مل گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی ہوئی ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دشمن کے ظلم کا اُس کے اپنے ہتھیار کے ساتھ جواب دیا جائے۔ چنانچہ آپ مدینہ کے چند ساتھیوں کو لے کر نکلے ۔ جب آپ مدینہ سے نکلے ہیں اُس وقت تک یہ ظاہر نہ تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہو گا یا اصل لشکر سے ، اس لئے تین سو آدمی آپ کے ساتھ مدینہ سے نکلے ۔ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قافلہ سے مراد مال سے لدے ہوئے اونٹ تھے بلکہ مکہ والے ان قافلوں کے ساتھ ایک مضبوط فوجی جتھہ بھیجوایا کرتے تھے کیونکہ وہ ان قافلوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کو مرعوب بھی کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اس قافلہ سے پہلے دو قافلوں کا ذکر تاریخ میں آتا ہے کہ اُن میں سے ایک کی حفاظت پر دوسو سپاہی مقرر تھا اور دوسرے کی حفاظت پر تین سو سپاہی مقرر تھا ۔ پس ان حالات میں مسیحی مصنفوں کا یہ لکھنا کہ تین سو سپاہی لے کر آپ مکہ کے ایک نہتے قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے محض دھوکا دہی کے لئے ہے۔ یہ قافلہ چونکہ بہت بڑا تھا اس لئے پہلے قافلوں کے حفاظتی دستوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کے ساتھ چار پانچ سو سوار ضرور موجود ہوگا ۔ اتنے بڑے حفاظتی دستہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اگر اسلامی لشکر جو صرف تین سو آدمیوں پر مشتمل تھا اور جن کے پاس پورا ساز و سامان بھی نہ تھا نکلا تو اُسے لوٹ کا نام دینا محض تعصب ، ضد اور بے انصافی ہی کہلا سکتا ہے۔ اگر صرف اس قافلہ کا سوال ہوتا تب بھی اُس سے لڑائی جنگ ہی کہلاتی اور جنگ بھی مدافعانہ جنگ کیونکہ مدینہ کا لشکر کمزور تھا اور صرف اسی فتنہ کو دور کرنے کے لئے نکلا تھا جس کی ارد گرد کے قبائل کو شرارت پر اکسا کر مکہ کے قافلے بنیاد رکھ رہے تھے۔ مگر جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے الہی منشا بھی تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل مکی لشکر سے مقابلہ ہو اور صرف مسلمانوں کے اخلاص اور اُن کے ایمان کو ظاہر کرنے کے لئے پہلے سے اس امر کا اظہار نہ کیا گیا۔ جب مسلمان بغیر پوری تیاری کے مدینہ سے نکل کھڑے