سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 85

ة سيرة النبي علي صلى الله 70 جلد 7 قاضی مقرر کئے گئے جن کے فیصلہ کے بغیر کوئی شخص اپنا حق دوسرے سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ پہلے مدینہ کے لوگوں کو علم کی طرف توجہ نہیں تھی اب اس بات کا انتظام کیا گیا کہ پڑھے لکھے لوگ ان پڑھوں کو پڑھانا شروع کریں ۔ ظلم ، تعدی اور بے انصافی کو روک دیا گیا ۔ عورتوں کے حقوق کو قائم کیا گیا ۔ شریعت کے مطابق تمام مالداروں پر ٹیکس مقرر کئے گئے جو غرباء پر خرچ کئے جاتے تھے اور شہر کی عام حالت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کئے جاتے تھے ۔ مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی گئی ۔ لاوارثوں کے لئے باقاعدہ تعلیموں کا انتظام کیا گیا۔ لین دین میں تحریر اور معاہدہ کی پابندیاں مقرر کی گئیں ۔ غلاموں پر سختی کوسختی سے روکا جانے لگا۔ صفائی اور حفظانِ صحت کے اصول پر زور دیا جانے لگا۔ مردم شماری کی ابتدا کی گئی ۔ گلیوں اور سڑکوں کے چوڑا کرنے کے احکام جاری کئے گئے ۔ سڑکوں کی صفائی کے متعلق احکام جاری کئے گئے ۔ غرض عائلی اور شہری زندگی کے تمام اصول مدوّن کئے گئے اور اُن کو باقاعدگی سے جاری کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی گئیں اور عرب پہلی دفعہ منتظم اور مہذب سوسائٹی کے اصول سے روشناس ہوئے ۔ ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے لئے ایک ایسا قانون پیش کر رہے تھے جو نہ صرف اُس زمانہ کے لئے بلکہ ہمیشہ کیلئے اُن کے لئے اور دنیا کی دوسری اقوام کیلئے بھی عزت ، شرف ، امن اور ترقی کا موجب تھا اُدھر مکہ کے لوگ اسلام کے خلاف باقاعدہ جنگ کی تیاریاں کرنے میں مشغول تھے جس کا نتیجہ بدر کی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ قریش کے تجارتی قافلہ کی آمد اور غزوہ بدر ہجرت کے تیرھویں مہینے میں شام سے ایک تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں آ رہا تھا کہ اُس کی حفاظت کے بہانہ سے مکہ والوں نے ایک ز بر دست لشکر مدینہ کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی