سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 84

صلى الله سيرة النبي علي 69 جلد 7 لڑائی چھیڑنے کے لئے کسی مزید وجہ کی ضرورت سمجھتا ہو۔ آج مغربی ممالک اپنے آپ کو کو بہت بہت ہی ہی مہذب مہذب سمجھتے مھتے ہیں۔ ہیں ہیں ۔ ۔ جو جو کچھ مکہ میں ہوا ہوا کیا کیا اُن ان سے نصف واقعات پر پر بھی اگر کوئی قوم لڑے تو کوئی شخص اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟ کیا اگر کوئی حکومت کسی دوسرے ملک کے لوگوں کو ایک جماعت کے قتل کرنے یا اپنے ملک سے نکال دینے پر مجبور کرے تو اُس جماعت کو حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اُس سے لڑائی کا اعلان کرے؟ پس مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کسی نئی وجہ کے پیدا ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔ مکی زندگی کے واقعات مسلمانوں کو پورا حق دیتے تھے کہ وہ مکہ والوں سے جنگ کا اعلان کر دیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، اُنہوں نے صبر کیا اور صرف دشمنوں کی شرارتوں کا پتہ لگاتے رہنے کی حد تک اپنی کوششوں کو محدود رکھا۔ مگر جب مکہ والوں نے خود مدینہ کے عربوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا، مسلمانوں کو حج کرنے سے روک دیا، ان کے قافلے جو شام میں تجارت کے لئے جاتے تھے انہوں نے اپنے اصل راستے کو چھوڑ کر مدینہ کے اردگرد کے قبائل میں سے ہو کر گزرنا شروع کیا اور ان کو مدینہ والوں کے خلاف اکسانا شروع کیا تو مدینہ کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کا بھی فرض تھا کہ وہ اس لڑائی کے چیلنج کو جو مکہ والے متواتر چودہ سال سے دے رہے تھے قبول کرتے اور دنیا کے کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ وہ چیلنج کے قبول کرنے پر اعتراض کرے۔ صلى مدینہ میں اسلامی حکومت کی بنیاد جہاں رسول اللہ ﷺ بیرونی حالات کی خبر گیری کر رہے تھے وہاں آپ مدینہ کی اصلاح سے بھی غافل نہیں تھے ۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ مدینہ کے مشرک اکثر اخلاص کے ساتھ اور بعض منافقت کے ساتھ مسلمان ہو چکے تھے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریق حکومت کو اُن میں قائم کرنا شروع کیا۔ پہلے عرب کے دستور کے مطابق لوگ لڑ بھڑ کر اپنے حقوق کا فیصلہ کرلیا کرتے تھے۔ اب با قاعدہ