سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 83
سيرة النبي علي صلى الله 68 جلد 7 میں موت کے ڈر سے روتا ہوں واللہ! ایسا ہر گز نہیں مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین پھیل جائے اور مکہ بھی اس کے قبضہ میں چلا جائے۔ ابوسفیان نے جواب میں کہا اس بات کا غم نہ کرو جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا ہم اس بات کے ضامن ہیں ۔ ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے لوگوں کے مظالم میں جو وقفہ ہوا تھا وہ عارضی تھا۔ دوبارہ قوم کو اکسایا جا رہا تھا۔ مرنے والے رؤسا موت کے بستر پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی قسمیں لے رہے تھے ۔ مدینہ کے لوگوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر آمادہ کیا جا رہا تھا اور اُن کے انکار پر دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ مکہ والے اور اُن کے حلیف قبائل لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے مردوں کو مار دیں گے اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے۔ صلى الله صلى الله م عليسة آنحضرت ﷺ کی مدافعانہ تدابیر پس ان حالات میں اگر رسول اللہ ﷺ مدینہ میں خاموش بیٹھے رہتے اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہ کرتے تو یقیناً آپ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ۔ پس آپ نے چھوٹے چھوٹے وفدوں کی صورت میں اپنے صحابہؓ کو مکہ کے ارد گرد بھجوانا شروع کیا تا کہ مکہ والوں کی کارروائیوں کا آپ کو علم ہوتا رہے۔ بعض دفعہ ان لوگوں کی مکہ کے قافلوں یا مکہ کی بعض جماعتوں سے مٹھ بھیڑ بھی ہو جاتی اور ایک دوسرے کو دیکھ لینے کے بعد لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی ۔ مسیحی مصنف لکھتے ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چھیڑ چھاڑ تھی ۔ کیا مکہ میں تیرہ سال تک جو مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اور مدینہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی جو کوشش کی گئی اور پھر مدینہ پر حملہ کرنے کی جو دھمکیاں دی گئیں ان واقعات کی دگی میں آپ کا خبر دار رہنے کے لئے وفود کو بھجوانا کیا چھیڑ چھاڑ کہلا سکتا ہے؟ کونسا دنیا کا قانون ہے جو مکہ کے تیرہ سال کے مظالم کے بعد بھی مسلمانوں اور اہل مکہ میں موجود