سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 87
لله صلى الله سيرة ابي عليه 72 جلد 7 ہوئے تو کچھ دور جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ پر ظاہر کیا کہ الہی منشا یہی ہے کہ مکہ کے اصل لشکر سے مقابلہ ہو۔ لشکر کے متعلق مکہ سے جو خبریں آ چکی تھیں اُن سے معلوم ہوتا تھا کہ لشکر کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور پھر وہ سب کے سب تجربہ کار سپاہی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والے لوگ صرف 313 تھے اور اُن میں سے بھی بہت سے ایسے تھے جو لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔ پھر سامان جنگ بھی اُن کے پاس پورا نہ تھا۔ اکثر یا تو پیدل تھے یا اونٹوں پر سوار تھے۔ گھوڑا صرف ایک تھا۔ اس چھوٹے سے لشکر کے ساتھ جو بے سروسامان بھی تھا ایک تجربہ کار دشمن کا مقابلہ جو تعداد میں اُن سے لگنے سے بھی زیادہ تھا نہایت ہی خطرناک بات تھی اس لئے آپ نے نہ چاہا کہ کسی شخص کو اُس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ اب قافلہ کا کوئی سوال نہیں صرف فوج ہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ وہ اس بارہ میں آپ کو مشورہ دیں۔ ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ کر آیا ہے تو ہم اُس سے ڈرتے نہیں ہم اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ہر ایک کا جواب سن کر آپ یہی فرماتے چلے جاتے مجھے اور مشورہ دو مجھے اور مشورہ دو۔ مدینہ کے لوگ اُس وقت تک خاموش تھے اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کی رشتہ دار تھی ۔ وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ اُن کی بات سے مہاجرین کا دل دکھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رَسُولَ الله! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم باشندگانِ مدینہ سے ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں ! اُس سردار نے جواب میں کہا يَا رَسُولَ الله! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب کر رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر