سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 80

لله صلى الله سيرة ابي عليه 65 جلد 7 مہاجرین و انصار اور علاوہ مسلمانوں کو بھائی بھائی بنانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل مدینہ کے درمیان یہود کے مابین معاہدہ ایک معاہدہ کرایا۔ آپ نے یہودیوں اور عربوں کے سرداروں کو جمع کیا اور فرمایا پہلے یہاں صرف دو گروہ تھے مگر اب تین گروہ ہو گئے ہیں ۔ یعنی پہلے تو صرف یہود اور مدینہ کے عرب یہاں بستے تھے مگر اب یہود، مدینہ کے عرب اور مکہ کے مہاجر تین گروہ ہو گئے ہیں اس لئے چاہئے کہ آپس میں ایک صلح نامہ قائم ہو جائے ۔ چنانچہ آپس کے سمجھوتے کے ساتھ ایک معاہدہ لکھا گیا اس معاہدہ کے الفاظ یہ ہیں :۔ وو " معاہدہ مابین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مومنوں اور اُن تمام لوگوں کے جو اُن سے بخوشی مل جائیں۔ مہاجرین سے اگر کوئی قتل ہو جائے تو وہ اُس کے خون کا ذمہ دار ہوں گے اور اپنے قیدیوں کو خود چھڑائیں گے اور مدینہ کے مختلف مسلمان قبائل بھی اسی طرح ان امور میں اپنے قبائل کے ذمہ دار ہوں گے ۔ جو شخص بغاوت پھیلائے یا دشمنی پیدا کرے اور نظام میں تفرقہ ڈالے تمام معاہدین اُس کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے خواہ وہ اُن کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی کافر مسلمان کے ہاتھ سے لڑائی میں مارا جائے تو اُس کے مسلمان رشتہ دار مسلمان سے بدلہ نہیں لیں گے اور نہ کسی مسلمان کے مقابلہ میں ایسے کافر کی مدد کریں گے۔ جو کوئی یہودی ہمارے ساتھ مل جائے اس کی ہم سب مدد کریں گے۔ یہودیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دی جائے گی نہ کسی دشمن کی اُن کے خلاف مدد کی جائے گی ۔ کوئی غیر مومن مکہ کے لوگوں کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دے گا نہ اُن کی جائیداد اپنے پاس امانت رکھے گا اور نہ کافروں اور مومنوں کی لڑائی میں کسی قسم کی دخل اندازی کرے گا۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو نا جائز طور پر کی شخص کسی مسلمان کو نا جائز طور پر