سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 79

صلى الله سيرة النبي علي 64 جلد 7 شروع کر کے بالکل تباہ ہو جاؤ گے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول پر اپنی غلطی کھل گئی اور وہ اس ارادہ سے باز آ گیا۔ انصار و مہاجرین میں مواخات انہی ایام میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تدبیر اسلام کی مضبوطی کے لئے اختیار کی اور وہ یہ کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور دو دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اس مواخات یعنی بھائی چارے کا انصار نے ایسی خوشدلی سے استقبال کیا کہ ہر انصاری اپنے بھائی کو اپنے گھر پر لے گیا اور اپنی جائیداد اُس کے سامنے پیش کر دی کہ اُسے نصف نصف بانٹ لیا جائے ۔ ایک انصاری نے تو یہاں تک حد کر دی کہ اپنے مہاجر بھائی سے اصرار کیا کہ میں اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں تم اُس سے شادی کر لو 66 - مگر سے مہاجرین نے اُن کے اس اخلاص کا شکریہ ادا کر کے اُ ادا کر کے اُن کی جائیدادوں میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ۔ مگر پھر بھی انصار مُصر رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ الله ! جب یہ مہاجر ہمارے بھائی ہو گئے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے مال میں حصہ دار نہ ہوں ۔ ہاں چونکہ یہ زمیندارہ سے واقف نہیں اور تاجر پیشہ لوگ ہیں اگر یہ ہماری زمینوں سے حصہ نہیں لیتے تو پھر ہماری زمینوں کی جو آمدنیاں ہوں اس میں ضرور ان کو حصہ دار بنایا جائے ۔ مہاجرین نے اس پر بھی اُن کے ساتھ حصہ دار بننا پسند نہ کیا اور اپنے آبائی پیشہ تجارت میں لگ گئے اور تھوڑے ہی دنوں میں اُن میں سے کئی مالدار ہو گئے ۔ مگر انصار اس حصہ بٹانے پر اتنے مُصر تھے کہ بعض انصار جو فوت ہوئے اُن کی اولادوں نے عرب کے دستور کے مطابق اپنے مہاجر بھائیوں کو مرنے والے کی جائیداد میں سے حصہ دیا اور کئی سال تک اس پر عمل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ قرآن کریم میں اس عمل کی منسوخی کا ارشاد نازل ہوا ۔