سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 78
ة سيرة النبي علي صلى الله 63 جلد 7 سوچنی شروع کیں ۔ مگر مشورہ کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ صرف مکہ اور گرد و نواح میں مسلمانوں کو تکلیف دینا اُنہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں کر سکتا۔ وہ اسلام کو تبھی وہ مٹا سکتے ہیں جب مدینہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلوادیں ۔ چنانچہ یہ مشورہ کر کے مکہ کے لوگوں نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے نام جس کی نسبت پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ والوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کر دیا تھا خط لکھا اور اسے توجہ دلائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ جانے کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کو بہت صدمہ ہوا ہے ۔ مدینہ کے لوگوں کو چاہئے نہیں تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دیتے ۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ تھے إِنَّكُمُ اوَيْتُمُ صَاحِبَنَا وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَاتِلَنَّهُ أَوْ تُخْرِجَنَّهُ أَوْلَنُسَيِّرَنَّ إِلَيْكُمْ بِأَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَ كُمُ 65 ۔ یعنی اب جبکہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے گھروں میں پناہ دی ہے ہم خدا م خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ یا تو تم مدینہ کے لوگ اس کے ساتھ لڑائی کرویا اُسے اپنے شہر سے نکال دو نہیں تو ہم سب کے سب مل کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے تمام قابل جنگ آدمیوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے ۔ اس خط کے ملنے پر عبداللہ بن ابی بن سلول کی نیت کچھ خراب ہوئی اور اُس نے دوسرے منافقوں سے مشورہ کیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے یہاں رہنے دیا تو ہمارے لئے خطرات کا دروازہ کھل جائے گا اس لئے چاہئے کہ ہم آپ کے ساتھ لڑائی کریں اور مکہ والوں کو خوش کریں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل گئی اور آپ عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس گئے اور اُسے سمجھایا کہ تمہارا یہ فعل خود تمہارے ہی لئے مضر ہوگا کیونکہ تم جانتے ہو کہ مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور اسلام کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اگر تم ایسا کرو گے تو وہ لوگ یقیناً مہاجرین کے ساتھ ہوں گے اور تم لوگ اس لڑائی کو اور