سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 77
ة سيرة النبي علي صلى الله 62 جلد 7 نہیں تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ کتنی بڑی خوشی اور اُن کے ساتھیوں کی نگاہوں میں یہ کتنی عظیم الشان کامیابی تھی کہ مکہ سے ہجرت کرنے کے چند دنوں بعد ہی خدا تعالیٰ نے اُن کے ذریعہ سے ایک شہر کو پورے طور پر خدائے قادر کا پرستار بنا دیا جس میں اور کسی بت کی پوجا نہیں کی جاتی تھی، نہ ظاہری بت کی نہ باطنی بت کی لیکن اس تبدیلی سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے لئے اب امن آگیا تھا۔ مدینہ میں عربوں میں سے بھی ایک جماعت منافقوں کی ایسی موجود تھی جو آپ کی جان کی دشمن تھی اور یہود بھی ریشہ دوانیاں کر رہے تھے۔ چنانچہ اس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے آپ خود بھی چوکس رہتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو بھی چوکس رہنے کی تاکید کرتے تھے۔ شروع میں بعض دن ایسے بھی آئے کہ آپ کو رات بھر جاگنا پڑا۔ ایک دفعہ ایسی ہی حالت میں جب آپ کو جاگتے رہنے سے تھکان محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا اس وقت کوئی مخلص آدمی پہرہ دیتا تو میں سو جاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی آپ نے پوچھا کون ہے؟ تو آواز آئی يَا رَسُولَ الله! میں سعد بن ابی وقاص ہوں جو آپ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں 64۔ اس پر آپ نے آرام فرمایا۔ انصار کو خود بھی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی رہائش ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالتی ہے اور یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دشمنوں کے حملوں سے محفوظ نہیں چنانچہ انہوں نے باہمی فیصلہ کر کے مختلف قبائل کی باریاں مقرر کر دیں۔ ہر قبیلہ کے کچھ لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے تھے۔ غرض مکی زندگی اور مدنی زندگی میں اگر کوئی فرق تھا تو صرف یہ کہ اب مسلمان خدا کے نام پر قائم کی ہوئی مسجد میں بغیر دوسرے لوگوں کی دخل اندازی کے پانچوں وقت نمازیں پڑھ سکتے تھے۔ مکہ والوں کی مسلمانوں کو دو تین مہینے گزرنے کے بعد مکہ کے لوگوں کی پریشانی دور ہوئی اور اُنہوں نے نئے دوبارہ دکھ دینے کی تدبیریں سرے سے مسلمانوں کو دکھ دینے کی تدابیر