سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 76
سيرة النبي علي صلى الله 61 جلد 7 باہر ہو 62۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام مدینہ کے ایام میں صرف انس سے خدمت لینے کا موقع ملا اور انس کی شہادت اس بارہ میں آپ کے اخلاق پر نہایت تیز روشنی ڈالنے والی ہے۔ مکہ سے اہل و عیال کو منگوانا، مسجد نبوی کی بنیا د رکھنا کچھ عرصہ کے بعد آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زید کو مکہ میں بھجوایا کہ وہ آپ کے اہل وعیال کو لے آئے ۔ چونکہ مکہ والے اس اچانک ہجرت کی وجہ سے کچھ گھبرا گئے تھے اس لئے کچھ عرصہ تک مظالم کا سلسلہ بند رہا اور اسی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے خاندان کے مکہ چھوڑنے میں مزاحم نہیں ہوئے اور یہ لوگ خیریت سے مدینہ پہنچ گئے ۔ اس عرصہ میں جو زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدی تھی سب سے پہلے وہاں آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی 63 اور اس کے بعد اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے مکان بنوائے جس پر کوئی سات مہینے کا عرصہ لگا۔ مدینہ کے مشرک قبائل کا اسلام میں داخل ہونا مدینہ میں آپ کے داخلہ کے بعد چند ہی دن میں مدینہ کے مشرک قبائل میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے جو دل سے مسلمان نہ ہوئے تھے وہ ظاہری طور پر مسلمانوں میں شامل ہو گئے اور اس طرح پہلی دفعہ مسلمانوں میں منافقوں کی ایک جماعت قائم ہوئی جو بعد کے زمانہ میں کچھ تو سچے طور پر ایمان لے آئی اور کچھ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف منصوبے اور سازشیں کرتی رہی ۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ظاہر میں بھی اسلام نہ لائے مگر یہ لوگ مدینہ میں اسلام کی شوکت کو برداشت نہ کر سکے اور مدینہ سے ہجرت کر کے مکہ چلے گئے ۔ اس طرح مدینہ دنیا کا پہلا شہر تھا جس میں خالصتہ خدائے واحد کی عبادت قائم کی گئی۔ یقیناً اُس وقت دنیا کے پردہ پر اس شہر کے سوا اور کوئی شہر یا گاؤں خالصتہ خدائے واحد کی عبادت کرنے والا