سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 81
صلى الله سيرة النبي علي 66 مار دے تو تمام مسلمان اُس کے خلاف متحدہ کوشش کریں گے ۔ اگر ایک مشرک دشمن مدینہ پر حملہ کرے تو یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور بحصہ رسدی خرچ برداشت کریں گے ۔ یہودی قبائل جو مدینہ کے مختلف قبائل کے ساتھ معاہدہ کر چکے ہیں اُن کے حقوق مسلمانوں کے سے حقوق ہوں گے۔ یہودی اپنے مذہب پر قائم رہیں گے اور مسلمان اپنے مذہب پر قائم رہیں گے۔ جو حقوق یہودیوں کو ملیں گے وہی ان کے اتباع کو بھی ملیں گے۔ مدینہ کے لوگوں میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کوئی لڑائی شروع نہیں کر سکے گا لیکن اس شرط کے ماتحت کسی شخص کو اُس کے جائز انتقام سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہودی اپنی تنظیم میں اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور مسلمان اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے لیکن لڑائی کی صورت میں وہ دونوں مل کر کام کریں گے ۔ مدینہ ان تمام لوگوں کے لئے جو اس معاہدہ میں شامل ہوتے ہیں ایک محترم جگہ ہوگی ۔ جو اجنبی لوگ شہر کے لوگوں کی حمایت میں آجائیں اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو اصل باشندگان شہر کے ساتھ ہوگا۔ لیکن مدینہ کے لوگوں کو یہ اجازت نہ ہو گی کہ کسی عورت کو اُس کے رشتہ داروں کی مرضی کے بغیر اپنے گھروں میں رکھیں۔ جھگڑے اور فساد خدا اور اُس کے رسول کے پاس فیصلہ کے لئے پیش کئے جائیں گے ۔ مکہ والوں اور اُن کے حلیف قبائل کے ساتھ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے کیونکہ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے دشمنوں کے خلاف اس معاہدہ کے ذریعہ سے اتفاق کر چکے ہیں ۔ جس طرح جنگ علیحدہ نہیں کی جاسکے گی اسی طرح صلح بھی علیحدہ نہیں کی جا سکے گی۔ لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ لڑائی میں شامل ہو۔ ہاں اگر کوئی شخص ظلم کا کوئی فعل کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہوگا ۔ یقیناً خدا نیکوں اور جلد 7