سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 73
صلى الله سيرة النبي علي 58 جلد 7 ظاہر کر دیا۔ قبا میں دس دن رہنے کے بعد مدینہ کے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے گئے ۔ جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے مدینہ کے تمام مسلمان کیا مرد، کیا عورتیں اور کیا بچے سب گلیوں میں نکلے ہوئے آپ کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ بچے اور عورتیں یہ شعر گا رہے تھے طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوِدَاعِ وَجَبَ الشُّكُرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلَّهِ دَاعٍ أَيُّهَا الْمَبْعُوتُ فِينَا جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ 58 یعنی چودھویں رات کا چاند ہم پر وداع کے موڑ سے چڑھا ہے اور جب تک خدا کی طرف بلانے والا دنیا میں کوئی موجود رہے ہم پر اس احسان کا شکر یہ ادا کرنا واجب ہے اور اے وہ جس کو خدا نے ہم پر مبعوث کیا ہے تیرے حکم کی پوری طرح اطاعت کی جائے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے تھے وہ مشرقی جہت نہیں تھی مگر چودھویں رات کا چاند تو مشرق سے چڑھا کرتا ہے۔ پس مدینہ کے لوگوں کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اصل چاند تو روحانی چاند ہے۔ ہم اس وقت تک اندھیرے میں تھے اب ہمارے لئے چاند چڑھا ہے اور چاند بھی اُس جہت سے چڑھا ہے جدھر سے وہ چڑھا نہیں کرتا۔ یہ پیر کا دن تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور پیر ہی کے دن آپ غار ثور سے نکلے تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ پیر ہی کے دن مکہ آپ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔ جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اُس کے گھر میں ٹھہریں ۔ جس جس گلی میں سے آپ کی اونٹنی گزرتی تھی اُس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے يَا رَسُولَ اللہ ! یہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری