سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 72
سيرة النبي علي صلى الله 57 جلد 7 زیادہ ان کی خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی تھی کہ وہ سورج جو مکہ کے لئے نکلا تھا مدینہ کے لوگوں پر جا طلوع ہوا۔ جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے غائب ہیں تو وہ اُسی دن سے آپ کی انتظار کر رہے تھے۔ اُن کے وفد روزانہ مدینہ سے باہر کئی میل تک آپ کی تلاش کے لئے نکلتے تھے اور شام کو مایوس ہو کر واپس آ جاتے تھے ۔ جب آپ مدینہ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ پہلے آپ قبا میں جو مدینہ کے پاس ایک گاؤں تھا ٹھہریں ۔ ایک یہودی نے آپ کی اونٹنیوں کو آتے دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ قافلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ ایک ٹیلے پر چڑھ ھ گیا گیا او اور اُس نے آواز دی اے قیلہ کی اولاد! (قبیلہ مدینہ والوں کی ایک دادی تھی ) وہ جس کی تم انتظار میں تھے آگیا ہے۔ اس آواز کے پہنچتے ہی مدینہ کا ہر شخص قبا کی طرف دوڑ پڑا۔ قبا کے باشندے اس خیال سے کہ خدا کا نبی اُن کے ہاں ٹھہرنے کے لئے آیا ہے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے ۔ اس موقع پر ایک ایسی بات ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کے کمال پر دلالت کرتی تھی۔ مدینہ کے اکثر لوگ آپ کی شکل سے واقف نہ تھے۔ جب قبا سے باہر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھاگتے ہوئے مدینہ سے آپ کی طرف آرہے تھے تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ سادگی سے بیٹھے ہوئے تھے اُن میں سے نا واقف لوگ حضرت ابوبکر کو دیکھ کر جو عمر میں گو چھوٹے تھے مگر اُن کی ڈاڑھی میں کچھ سفید بال آئے ہوئے تھے اور اسی طرح اُن کا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بہتر تھا یہی سمجھتے تھے کہ ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بڑے ادب سے آپ کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔ حضرت ابو بکر نے جب یہ بات دیکھی تو سمجھ لیا کہ لوگوں کو غلطی لگ رہی ہے ۔ وہ جھٹ چادر پھیلا کر سورج کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا یا رَسُولَ اللہ ! آپ پر دھوپ پڑ رہی ہے میں آپ پر سایہ کرتا ہوں 57 اور اس لطیف طریق سے اُنہوں نے لوگوں پر اُن کی کی غ غلطی کو