سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 71
سيرة النبي علي الله 56 جلد 7 حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے۔ حضرت عمرؓ کے سامنے جب اموال غنیمت لاکر رکھے گئے اور اُن میں اُنہوں نے کسری کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا ، وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپ کے پیچھے اس لئے گھوڑے دوڑانا کہ آپ کو مار کر یا زندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچا دیں تو وہ سو اونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اُس وقت آپ کا سراقہ سے کہنا سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے کتنی بڑی پیشگوئی تھی ، کتنا مصفی غیب تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے سامنے کسری کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت اُن کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔ اُنہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ ۔ سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ کسری کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں ۔ سراقہ نے کہا اے خدا کے رسول کے خلیفہ ! سونا پہننا تو مسلمانوں کے لئے منع ہے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں منع ہے مگر ان موقعوں کے لئے نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا۔ سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت کے مسئلہ کی وجہ سے تھا اور نہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لئے اور مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آنحضرت ﷺ کا مدینہ منورہ میں ورود مکہ سے بھاگ کر نکلنے والا رسول صلى الله ت علي اب دنیا کا بادشاہ تھا، وہ خود اس دنیا میں موجود نہیں تھا مگر اُس کے غلام اُس کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ رہے تھے۔ سراقہ کو رخصت کرنے کے بعد چند منزلیں طے کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے ۔ مدینہ کے لوگ بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہے تھے اور اس سے