سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 74
سيرة النبي علي صلى الله 59 جلد 7 جانیں ہیں جو آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں يَا رَسُولَ الله! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں آپ ہمارے ہی پاس ٹھہریں ۔ بعض لوگ جوش میں آگے میں بڑھتے اور آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تا کہ آپ کو اپنے گھر میں اتر والیں مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے یہ وہیں کھڑی ہو گی جہاں خدا تعالیٰ کا منشا ہوگا ۔ آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے تیموں کی ایک زمین کے پاس جا کر اونٹنی ٹھہر گئی ۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا یہی منشا معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں 59 ۔ پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے؟ زمین کچھ یتیموں کی تھی اُن کا ولی آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے ۔ آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے ۔ آخر اس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا 60 ۔ حضرت ابوایوب انصاری کے مکان پر قیام اس کے بعد آپ نے فرمایا سب سے قریب گھر کس کا ق ہے؟ ابو ایوب انصاری آگے بڑھے اور کہا يَا رَسُولَ الله! میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے ۔ آپ نے فرمایا گھر جاؤ اور ہمارے لئے کوئی کمرہ تیار کرو۔ ابوایوب کا مکان دو منزلہ تھا اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل کو پسند فرمایا۔ انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جو شدید محبت پیدا ہو گئی تھی اُس کا مظاہرہ اس موقع پر بھی ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوایوب مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے نیچے سو رہے ہیں پھر وہ