سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 66
سيرة ة النبي علي صلى الله 51 جلد 7 اُنہیں مکہ والوں کی شرارتوں کا خیال نہ رہا اور اُن کی آواز میں فضا میں گونج گئیں۔ عباس نے انہیں ہوشیار کیا اور کہا خاموش ! خاموش ! ایسا نہ ہو کہ مکہ کے لوگوں کو اس ایسا نہ ہو کہ مکہ کے لوگوں واقعہ کا علم ہو جائے ۔ مگر اب وہ ایمان حاصل کر چکے تھے اب موت اُن کی نظروں میں حقیر ہو چکی تھی ۔ عباس کی بات سن کر اُن کا ایک رئیس بولا يَا رَسُولَ اللہ! ہم ڈرتے نہیں آپ اجازت دیجئے ابھی مکہ والوں سے لڑ کر اُنہوں نے جو ظلم آپ پر کئے ہیں اُس کا بدلہ لینے کو تیار ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی خدا تعالیٰ نے مجھے اُن کے مقابل پر کھڑا ہونے کا حکم نہیں دیا۔ اس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور یہ مجلس برخاست ہوئی 50 ۔ مکہ کے لوگوں کو اس واقعہ کی بھنک پڑ گئی اور وہ مدینہ کے سرداروں کے پاس شکایت لے کر گئے ۔ لیکن چونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول مدینہ کے قافلہ کا سردار تھا اُسے خود اس واقعہ کا علم نہیں تھا اُس نے اُنہیں تسلی دلائی اور کہا کہ اُنہوں نے یونہی کوئی جھوٹی افواہ سن لی ہے ایسا کوئی واقعہ نہیں کیونکہ مدینہ کے لوگ میرے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتے ۔ مگر وہ کیا سمجھتا تھا کہ اب مدینہ کے لوگوں کے دلوں میں شیطان کی جگہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو چکی تھی۔ اس کے بعد مدینہ کا قافلہ واپس چلا گیا ۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ہجرت کی تیاری شروع کی ۔ ایک کے بعد ایک خاندان مکہ سے غائب ہونا شروع ہوا۔ اب وہ لوگ بھی جو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا انتظار کر رہے تھے دلیر ہو گئے ۔ بعض دفعہ ایک ہی رات میں مکہ کی ایک پوری گلی کے مکانوں کو تالے لگ جاتے تھے اور صبح کے وقت جب شہر کے لوگ گلی کو خاموش پاتے تو دریافت کرنے پر انہیں معلوم ہوتا تھا کہ اس گلی کے تمام رہنے والے مدینہ کو ہجرت کر گئے ہیں اور اسلام کے اس گہرے اثر کو دیکھ کر جو اندر ہی