سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 67

له صلى الله سيرة ابي عليه 52 جلد 7 اندر مکہ کے لوگوں میں پھیل رہا تھا وہ حیران رہ جاتے تھے۔ آخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا صرف چند غلام، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت علی مکہ میں رہ گئے ۔ جب مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ اب شکار ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے تو رؤسا پھر جمع ہوئے اور مشورے کے بعد اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب محمد رسول ال راب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا ہی مناسب ہے ۔ خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آپ کے قتل کی تاریخ آپ کی ہجرت کی تاریخ سے موافق پڑی۔ جب مکہ کے لوگ آپ کے گھر کے سامنے آپ کے قتل کے لئے جمع ہورہے تھے آپ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ مکہ کے لوگ ضرور شبہ کرتے ہوں گے کہ اُن کے ارادہ کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مل چکی ہو گی مگر پھر بھی جب آپ اُن کے سامنے سے گزرے تو اُنہوں نے یہی سمجھا کہ یہ کوئی اور شخص ہے اور بجائے آپ پر حملہ کرنے کے سمٹ سمٹ کر آپ سے چھپنے لگ گئے تاکہ اُن کے ارادوں کی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خبر نہ ہو جائے ۔ اس رات سے پہلے دن ہی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے ابوبکر کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی پس وہ بھی آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے اور مکہ سے تین چار میل پر ثور نامی پہاڑی کے سرے پر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے 51 ۔ جب مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے گئے ہیں تو اُنہوں نے ایک فوج جمع کی اور آپ کا تعاقب کیا۔ ایک کھوجی اُنہوں نے اپنے ساتھ لیا جو آپ کا کھوج لگاتے ہوئے ثور پہاڑ پر پہنچا۔ وہاں اُس نے غار ساتھ کہا کہ کے پاس پہنچ کر جہاں آپ ابوبکر کے ساتھ چھپے ہوئے تھے یقین کے ساتھ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے۔ اُس کے اس اعلان کو سن کر ابو بکر کا دل بیٹھنے لگا اور اُنہوں نے آہستہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دشمن سر پر آپہنچا ہے اور اب کوئی دم میں غار میں داخل ہونے والا ہے ۔ آپ