سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 65
سيرة النبي علي صلى الله 50 جلد 7 جائے۔ تب مسیلمہ نے پھر اُن سے پوچھا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حبیب نے کہا ہاں ۔ پھر اُس نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حبیب نے کہا نہیں ۔ پھر اُس نے آپ کا ایک دوسرا عضو کاٹنے کا حکم دیا۔ ہر عضو کاٹنے کے بعد وہ سوال کرتا جاتا تھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور حبیب کہتا تھا کہ نہیں ۔ اسی طرح اس کے سارے اعضا کاٹے گئے اور آخر میں ا اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہوئے وہ خدا سے جاملا 49۔ خود ام عمارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شامل ہوئیں۔ غرض یہ ایک مخلص اور ایمان والا قافلہ تھا جس کے افراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دولت اور مال مانگنے نہیں آئے تھے بلکہ صرف ایمان طلب کرنے آئے تھے ۔ عباس نے اُن کو مخاطب کر کے کہا اے خزرج قبیلہ کے لوگو! یہ میرا عزیز اپنی قوم میں معزز ہے اس کی قوم کے لوگ خواہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن ا اب اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمہارے پاس جائے ۔ اے خزرج کے لوگو! اگر یہ تمہارے پاس گیا تو سارا عرب تمہارا مخالف ہو جائے گا۔ اگر تم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور ان خطرات کو پہچانتے ہوئے جو تمہیں اس کے دین کی حفاظت میں پیش آنے والے ہیں اس کو لے جانا چاہتے ہو تو خوشی سے لے جاؤ ورنہ اس ارادہ سے باز آجاؤ۔ اس قافلہ کے سردار البراء تھے اُنہوں نے کہا ہم نے آپ کی باتیں سن لیں ، ہم اپنے ارادہ میں پختہ ہیں ہماری جانیں خدا کے نبی پر شار ہیں ۔ اب فیصلہ اُس کے اختیار میں ہے۔ ہم اُس کا ہر فیصلہ قبول کریں گے ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی تعلیم سمجھانی شروع کی اور خدا کی توحید کے قیام کا وعظ کیا اور انہیں کہا کہ اگر وہ اسلام کی حفاظت اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کی طرح کرنے کا وعدہ کرتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہیں ۔ آپ اپنی بات ختم کرنے نہ پائے تھے کہ مدینہ کے 72 جاں شمار یک زبان ہو کر چلائے ہاں ! ہاں !! اُس وقت جوش میں