سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 64

سيرة رة النبي علي صلى الله 49 جلد 7 اپنے عظیم الشان رب کے نام کی بزرگی بیان کرتا چلا جا۔ آخر تیسرا حج بھی آپہنچا اور مدینہ کے حاجیوں کا قافلہ مسلمانوں کی ایک بڑی برامج تعداد پر مشتمل مکہ میں وارد ہوا ۔ مکہ والوں کی مخالفت کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ملنے کی خواہش کی ۔ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن ادھر منتقل ہو چکا تھا کہ شاید ہجرت مدینہ ہی کی طرف مقدر ہے ۔ آپ نے اپنے معتبر رشتہ داروں سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور انہوں نے آپ کو سمجھانا شروع کیا کہ آپ ایسا نہ کریں۔ مکہ والے دشمن ہی سہی پھر بھی اس میں بڑے بڑے با اثر لوگ آپ کے رشتہ داروں میں سے موجود ہیں نہ معلوم مدینہ میں کیا ہو اور وہاں آپ کے رشتہ دار آپ کی مدد کر سکیں یا نہ کر سکیں ۔ مگر چونکہ آپ سمجھ چکے تھے کہ خدائی فیصلہ یہی ہے أم آپ نے اپنے رشتہ داروں کی باتوں کو رد کر دیا اور مدینہ جانے کا فیصلہ کر دیا۔ آدھی رات کے بعد پھر وادی عقبہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے مسلمان جمع ہوئے ۔ اس ہوئے ۔ اب آپ کے ساتھ آپ کے چچا عباس بھی تھے۔ اس دفعہ مدینہ کے مسلمانوں کی تعداد 73 تھی ۔ اُن میں 62 خزرج قبیلہ کے تھے اور 11 اوس کے تھے 48 اور اس قافلہ میں دو عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بنی نجار قبیلہ کی عمارہ بھی تھیں ۔ چونکہ مصعب کے ذریعہ سے ان لوگوں تک اسلام کی تفصیلات پہنچ چکی تھیں یہ لوگ ایمان اور یقین سے پُر تھے، بعد کے واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ آئندہ اسلام کا ستون ثابت ہونے والے تھے۔ اُمِ عمارہ جو اُس دن شامل ہوئیں اُنہوں نے اپنی اولاد میں اسلام کی محبت اتنی داخل کردی کہ اُن کا بیٹا حبیب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب کے لشکر کے ہاتھ میں قید ہو گیا تو مسیلمہ نے اُسے بلا کر پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں ؟ حبیب نے کہاں ہاں ۔ پھر مسیلمہ نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حبیب نے کہا نہیں ۔ اس پر مسیلمہ نے حکم دیا کہ ان کا ایک عضو کاٹ دیا